Khak e raah se suriya tak ka mahmar article by Shaneela Jabeen Zahidi

"خاکِ راہ سے ثریا تک کا معمار"

ازقلم: شنیلہ جبین زاہدی

 

یہ کوئی سرسری داستانِ زیست نہیں، بلکہ اس چراغِ فروزاں کی حکایت ہے جو حوادثِ زمانہ کی تند و تیز آندھیوں میں بجھا نہیں، بلکہ ہر طوفان کے تھمنے کے بعد پہلے سے زیادہ تابناک ہو کر ابھرا۔ یہ کسی دنیاوی منصب کی نمود یا جاہ و حشم کی طلب کا قصہ نہیں؛ یہ تو محنتِ شاقہ کی وہ مسلسل تسبیح ہے جس کا ایک ایک دانہ پچاس طویل برسوں کی ریاضت سے پرویا گیا۔ ایک ایسی تسبیح جس کا ہر منکا ندامت کے آنسوؤں سے تر، سحر گاہی کے سجدوں سے معطر اور اخلاصِ نیت کے نور سے منور ہے۔

 

حکیمِ رومیؒ، مولانا جلال الدین رومی نے سچ فرمایا تھا۔

"عشق آمد و شد چو خونم اندر رگ و پوست"

(عشق وارد ہوا اور میری رگ و پے میں لہو بن کر دوڑ گیا)

 

اور حقیقت یہی ہے کہ جب عشقِ الٰہی رگوں میں خوں بن کر اتر جائے تو انسان محض گوشت پوست کا پتلا نہیں رہتا، وہ خاکداںِ گیتی پر "نور کا سفیر" بن جاتا ہے۔

یہی نور بوکن شریف کی پُر سکون اور معطر فضاؤں میں اس وقت ضوفشاں ہوا، جب 1950 کی ایک نویدِ سحر بن کر ساداتِ کرام کے عالی مرتبت گھرانے میں ایک طفلِ نازک نے قدم رکھا۔ اس وقت چشمِ فلک نے بھی نہ جانا ہوگا کہ یہ نحیف وجود آگے چل کر وقت کے ماتھے پر جہدِ مسلسل کی ایک روشن تحریر ثبت کر دے گا۔ یہ بچہ شعور کی منزلیں طے کر کے ایک دن سفیرِ ضیاء الامت، پیر سید زاہد صدیق شاہ بخاری کے معتبر نام سے شناخت پائے گا؛ مگر یاد رہے کہ اس معتبر پہچان تک کا سفر ریشم و اطلس پر نہیں، بلکہ نوکِ خار پر تھا۔

ہر وہ شجر جو آسمان سے باتیں کرتا ہے، اس کی جڑیں زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس مردِ درویش کی روحانی جڑیں بھی "ماں کی دعا" کے فیض سے سیراب تھیں۔ وہ ماں جس کے لبوں پر ہر پل درودِ پاک کا وظیفہ رہتا، آنکھوں میں خشیتِ الٰہی کے اشک جلملاتے اور دل میں اپنے لختِ جگر کے لیے تمناؤں کا ایک جہان آباد تھا۔ جب وہ اپنے ہونہار اور سعادت مند بیٹے کی بے لوث خدمت اور والہانہ محبت کا مشاہدہ کرتیں، تو ان کا پرنور کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا اور وہ بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا دراز کر دیتیں۔ ایک بار وجدانی کیفیت میں اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے فرمایا:

 

"شاہ جی! میں آپ سے مدینے تک راضی ہوں"

 

جن کے خمیر میں ماں کی دعائیں نور بن کر گھل گئی ہوں، وہ اس جہانِ فانی میں گمنامی کی نذر کیسے ہو سکتے تھے؟ رخصتِ آخرت کے وقت اس عظیم ماں نے اپنے بیٹے کو وہ الہامی دعا دی جو آج تاریخ کا حصہ ہے:

 

"شاہ جی! اللہ آپکو وہ رنگ لگائے گا جو دنیا تو دیکھے گی، مگر میں نہ دیکھ سکوں گی"

 

یہ کوئی سادہ جملہ نہ تھا، بلکہ یہ لوحِ تقدیر پر لکھا گیا ایک ابدی مسودہ تھا۔ بابا حضور، سفیرِ ضیاء الامت کی جوانی کا پہلا باب خدمتِ مادر کے سنہری حروف سے روشن ہوا۔ آپ سرکاری معلم تھے، مگر گھر کی چہار دیواری میں ایک عاجز خدمت گزار بیٹے کی تصویر۔ آپ درس گاہ میں علم بانٹتے تھے، مگر ماں کی آغوشِ محبت سے "ادب" کی وہ باریکیاں سیکھتے تھے جو کتابوں میں نہیں ملتیں۔ آپ کے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت کا جوہر تھا اور جبینِ نیاز پر عجز و انکسار کا ہالہ۔ چہرے پر تبسمِ زیرِ لب اور مخلوقِ خدا کے لیے شفقت کا وہ انوکھا رنگ جو صرف مردانِ حق کا خاصہ ہے۔

بابِ مدینۃ العلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قولِ مبارک ہے

 

"انسان کی قدر اس کے اخلاق سے پہچانی جاتی ہے"

 

یہی وہ اوصافِ حمیدہ تھے جنہوں نے اس سید زادے کو نسب کی بلندیوں کے باوجود تواضع کی زمین سے جوڑے رکھا اور محنت کی انتہا پر بھی سرِ نیاز کو بارگاہِ الٰہی میں خمیدہ رکھا۔

پھر وہ مبارک ساعت آئی جب "آہلہ" کی زرخیز سر زمین پر دو کریم ہستیوں کا سنگم ہوا۔ اس عہد کے مردِ کامل، حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہِ کیمیا اثر اس سید زادے پر ایسی پڑی کہ دل کی بستی اجال دی۔ وہ محض ایک ملاقات نہ تھی، بلکہ تقدیر کے بند کواڑوں کا وا ہونا تھا۔

 

حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔

 

"کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں"

 

وقت کے اس مجدد نے جب اس سید زادے کے قلبِ مضطرب پر اپنی نگاہِ التفات ڈالی، تو چشمِ تصور میں آہلہ کی نہر بھی اس روحانی وصال پر محوِ حیرت تھی۔ مادرِ مہربان کے وصال کے چالیسویں پر جب اس "رنگ ریز" (پیر محمد کرم شاہ) کے مبارک قدم بوکن شریف کی دھرتی پر پڑے، تو وہاں کی فضا ہی بدل گئی۔ وہ عظیم مربی بوکن شریف کے اس شہزادے کو "صبغتہ اللہ" (اللہ کے رنگ) کے وہ گہرے رنگ دے گیا جس کی چمک کبھی مانند نہیں پڑتی۔ جب سفیرِ ضیاء الامت نے اپنے جدِ امجد کی خواہش کا اظہار کیا، تو مرشدِ کامل نے نوید سنائی:

 

"بسم اللہ کریں شاہ جی! باقی رنگ اللہ لگائے گا!"

 

یہ جملہ محض ایک رسمی اجازت نہ تھا، بلکہ یہ ایک بھاری ذمہ داری کا بارِ گراں تھا اور اس امر کا اعلان تھا کہ اب یہ زندگی اپنی ذات کے حصار سے نکل کر ایک عظیم مشن کے لیے وقف ہو چکی ہے۔

 

"اک عزمِ صمیم"

 

جوانی عام طور پر رنگین خوابوں کا موسم ہوتی ہے،

 مگر یہاں جوانی اینٹیں اٹھاتی، مٹی گوندھتی اور اپنے خوابوں کو تعلیمی اداروں کی دیواروں میں چنتی دکھائی دیتی ہے۔ تین کچے مٹی کے کمرے، نہ ظاہری وسائل، نہ سرمایہ اور نہ ہی آسائشیں؛ پاس تھا تو بس یقینِ کامل کی تپش اور فقر کی غیور غیرت۔ وہ کالی راتیں جب دنیا خوابِ خرگوش کے مزے لیتی اور ایک درویش سجدوں میں گڑگڑا کر دعا مانگتا۔ وہ تپتے دن جب تھکن جسم کے جوڑ جوڑ کو جھکانا چاہتی، مگر عزم و ہمت اسے استقامت کے ساتھ کھڑا رکھتے۔ وہ کٹھن لمحے جب تلخ حالات سوال کرتے اور مردِ حر کا یقین جرات مندانہ جواب دیتا۔

وہ تین کمرے محض چار دیواری نہ تھے، وہ اس سید زادے کی پانچ دہائیوں پر محیط ریاضت کا پہلا رنگ تھے۔ آج وہی رنگ ایک وسیع کینوس پر پھیل کر درجنوں اداروں، سینکڑوں جید اساتذہ اور ہزاروں تشنگانِ علم کی صورت میں بہار دکھا رہا ہے۔ یہ سب کسی معجزے کی کرامت نہیں، بلکہ "خاموش جدوجہد" کا وہ تسلسل ہے جسے ربِ کعبہ نے قبولیت بخشی۔

1975 سے لے کر 2026 تک کی تاریخ شاہد ہے کہ ایک شخص نہ کہیں تھکا، نہ کہیں رکا اور نہ ہی مصلحتوں کے سامنے جھکا۔ وہ مسلسل رواں دواں رہا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سفر گل و گلزار تھا؛ ذرا اس مردِ آہن سے پوچھو جس کے پاؤں کئی بار آبلہ پا ہو کر شل ہوئے، کئی مخالفانہ طوفان اس چراغِ ضیاء کو گل کرنے کے درپئے ہوئے، مگر وہ اپنے رب کو نگہبان مان کر صرف محبتِ الٰہی کے سہارے چلتا رہا۔

آج 60 سے زائد علمی ادارے اسی ایک چراغ کی ضیا پاشیوں سے منور ہیں۔ سینکڑوں بیٹیوں کے ماتھوں پر "بناتِ زاہد" کا اعزاز ایک کہکشاں کی مانند دمک رہا ہے۔ لاکھوں حفاظِ کرام کے سروں پر "ابنِ زاہد" کا تاج وقار بن کر چمک رہا ہے۔ ان اداروں کی نرسری سے ایسے قانون دان، پروفیسرز اور سکالرز جنم لے رہے ہیں جو عالمِ اسلام میں اپنی علمی خوشبو پھیلا رہے ہیں۔ عصری علوم ہو یا دینی میدان، یہاں کے سپوت گولڈ میڈلز کے ساتھ اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ آج بوکن شریف کی سرزمین پر ایک نئے عہد کا سورج طلوع ہو رہا ہے جہاں "بناتِ زاہد" ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریوں سے آراستہ ہو کر مخلوط تعلیم کے زہر سے پاک معاشرے کی تشکیل کریں گی۔

 

"اخلاص کی معراج"

 

آپ کے مرشد کا وہ جملہ جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا:

 

"دنیا سولہ آنے ہے، اور میرا زاہد سترہ آنے!"

 

یہ محبت کا وہ بلند ترین مقام تھا جہاں خود کو مٹا کر مقصد کو سو فیصد کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقامِ سترہ آنے ہے جہاں نام سے زیادہ کام کی گونج سنائی دیتی ہے اور ظاہری نمائش پر بے لوث خدمتِ خلق کو ترجیح دی جاتی ہے۔

 

"نور کی روحانیت"

 

آج اگر بوکن شریف کی فضاؤں میں ایک سکینت اور تازگی محسوس ہوتی ہے، تو یہ کسی موسمی تبدیلی کا ثمر نہیں، بلکہ ان سجدوں کی تاثیر ہے جو رات کے پچھلے پہر تنہائی میں ادا ہوئے۔ یہ ان آنسوؤں کی نمی ہے جو دعاؤں کے سانچوں میں ڈھل کر بہے۔ یہ ان ہاتھوں کی حرارت ہے جنہوں نے مٹی کو چھوا تو وہ سونا بن گئی اور خوابوں کو حقیقت کا روپ بخشا۔

پچاس طویل برس! ہر برس ایک نیا چراغ، ہر چراغ ایک نیا نور، اور ہر نور تھکے ہارے مسافروں کے لیے ایک جائے پناہ۔ جو بھی ذی ہوش اس ہالۂ نور کے قریب آتا ہے، اسے اپنے دل کے اندھیرے کم ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ نورِ علم بھی ہے، نورِ ادب بھی اور نورِ فقر بھی۔ یہ وہ روشنی ہے جو بصارت کو نہیں، بصیرت کو منور کرتی ہے۔

اے سفیرِ ضیاء الامت!

آپ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سید ہونا اگرچہ نسب کا عظیم اعزاز ہے، مگر "سید" کہلوانے کے وقار کو برقرار رکھنا دراصل محنت کی وہ خاموش عبادت ہے جو آپ نے کر دکھائی۔ آپ نے پانچ دہائیوں میں جو رنگ بکھیرے، وہ صرف اینٹ اور گارے کی دیواروں پر نہیں بلکہ نسلوں کے قلوب و اذہان پر ثبت ہو چکے ہیں۔ آپ کا یہ سفر محض ایک قصہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل دعا ہے جو آج بھی جاری ہے اور کل بھی صدف میں موتی رولتی رہے گی۔

بلاشبہ، جب محنت "عشق" کا لبادہ اوڑھ لے، تو ہر لفظ گوہرِ نایاب بن جاتا ہے، ہر سانس تسبیح کا دانہ اور ہر قدم "نورِ ازل" کی جانب پیش قدمی۔

آپ سلامت رہیں

 تا قیامت رہیں!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments