*عنوان:
"جذباتی سن پن" جب انسان محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے*
کبھی
آپ نے خود کو اس حالت میں پایا ہے جہاں نہ خوشی واقعی خوشی لگتی ہے اور نہ ہی دکھ واقعی
دکھ محسوس ہوتا ہے؟ جیسے اندر کچھ خاموش ہو گیا ہو۔ نہ دل ٹوٹنے کا درد ویسا محسوس
ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کامیابی کی خوشی دل میں اترتی ہے۔ نفسیات میں اس کیفیت کو
"جذباتی سن پن" (Emotional Numbness) کہا جاتا ہے، اور یہ جدید دور کے انسان کا ایک خاموش مگر تیزی سے
پھیلتا ہوا ذہنی تجربہ بن چکا ہے۔یہ کیفیت اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ یہ آہستہ آہستہ بنتی
ہے، جیسے کوئی روشنی آہستہ سے مدھم ہو رہی ہو۔ ابتدا میں انسان صرف تھوڑا کم محسوس
کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ خود کو ایک مشین کی طرح محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ
کام کرتا ہے، بات کرتا ہے، مسکراتا بھی ہے، لیکن اندر سے کچھ بھی نہیں ہلتا۔
نفسیاتی
طور پر یہ دماغ کا ایک دفاعی نظام ہے۔ جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ، مایوسی، یا جذباتی
صدمے سے گزرتا ہے، تو دماغ خود کو بچانے کے لیے جذبات کو کم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے جسم شدید درد میں خود کو سن کر لیتا ہے تاکہ انسان اس درد کو برداشت
کر سکے۔ دماغ بھی جذباتی درد سے بچنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرتا ہے۔جدید زندگی میں
اس کیفیت کی ایک بڑی وجہ مسلسل ذہنی overload
ہے۔ ہر روز درجنوں خبریں، سینکڑوں تصاویر، اور لاتعداد معلومات دماغ
پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ انسان اتنی زیادہ جذباتی معلومات absorb
کرتا ہے کہ دماغ خود کو بچانے کے لیے sensitivity
کم کر دیتا ہے۔ یہ ایک طرح کی emotional
shutdown ہے۔خاص طور پر سوشل میڈیا نے
اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔ جب انسان روزانہ دوسروں کی خوشیاں، کامیابیاں، اور مسائل
دیکھتا ہے، تو اس کا دماغ آہستہ آہستہ جذباتی ردعمل کم کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ ہر چیز
پر مکمل جذباتی ردعمل دینا ذہنی طور پر بہت تھکا دینے والا عمل ہے۔جذباتی سن پن کی
ایک خطرناک بات یہ ہے کہ انسان کو اکثر خود اس کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ صرف یہ محسوس
کرتا ہے کہ اس کے اندر پہلے جیسی شدت نہیں رہی۔ وہ ہنستا ہے، لیکن دل سے نہیں۔ وہ روتا
ہے، لیکن آنکھوں کے آنسو دل کے درد کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔
اس
کیفیت کا اثر انسان کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ دوسروں سے جذباتی طور
پر دور ہونے لگتا ہے۔ تعلقات کمزور ہونے لگتے ہیں کیونکہ جذبات کسی بھی تعلق کی بنیاد
ہوتے ہیں۔ جب جذبات کمزور ہو جائیں، تو تعلق صرف الفاظ تک محدود رہ جاتا ہے۔
ایک
اور اہم پہلو یہ ہے کہ جذباتی سن پن ہمیشہ منفی جذبات تک محدود نہیں رہتا۔ یہ مثبت
جذبات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انسان نہ صرف دکھ کم محسوس کرتا ہے بلکہ خوشی بھی کم محسوس
کرنے لگتا ہے۔ زندگی ایک سیدھی لکیر کی طرح لگنے لگتی ہے، جس میں نہ زیادہ اتار ہوتا
ہے نہ چڑھاؤ۔
ماہرین
نفسیات کے مطابق یہ کیفیت اکثر ان لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو طویل عرصے سے ذہنی
دباؤ میں رہتے ہیں، یا جنہوں نے اپنی اصل جذبات کو مسلسل دبایا ہوتا ہے۔ جب انسان بار
بار اپنے جذبات کو نظر انداز کرتا ہے، تو دماغ آہستہ آہستہ جذباتی ردعمل دینا کم کر
دیتا ہے۔
*لیکن
یہاں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ جذباتی سن پن مستقل حالت نہیں ہے۔ یہ دماغ کی ایک وقتی
adaptation
ہے، کوئی مستقل خرابی نہیں۔ دماغ میں دوبارہ محسوس کرنے کی صلاحیت
ہمیشہ موجود رہتی ہے۔*
*Basic Treatment*
*اس
کیفیت سے باہر آنے کا پہلا قدم خود کو دوبارہ محسوس کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اکثر لوگ
اپنے جذبات کو کمزوری سمجھ کر دبانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں جذبات انسان
کی ذہنی صحت کا اہم حصہ ہیں۔ جب انسان اپنے جذبات کو قبول کرنا شروع کرتا ہے، تو دماغ
آہستہ آہستہ دوبارہ حساس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔سادہ چیزیں بھی اس عمل میں مددگار ہو
سکتی ہیں۔ قدرت کے ساتھ وقت گزارنا، گہرے تعلقات بنانا، اپنے خیالات لکھنا، اور خود
کے ساتھ ایماندار ہونا۔ یہ سب دماغ کو دوبارہ جذباتی طور پر activate
کرتے ہیں۔*
آخر
میں، شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ جذباتی سن پن کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ دماغ کی
ایک حفاظتی حکمت عملی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دماغ خود کو بچانے کی کوشش کر رہا
ہے۔
*انسان
کی اصل طاقت اس کی محسوس کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ کیونکہ جب انسان محسوس کرتا ہے، تب
ہی وہ واقعی زندہ ہوتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ محسوس کرنا شروع کرتا ہے، تو زندگی دوبارہ
رنگوں سے بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔*
پوسٹ
پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں
موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
*Tanzil khan Clinical Psychologist*
Comments
Post a Comment