Itikaf Khulwat mein rab ki qurbat ka safar article by Tasleem Shahzadi Naz

کالم نگار:   تسلیم شہزادی نازؔ

 شاعرہ:   تسلیم شہزادی نازؔ

 

اعتکاف: خلوت میں رب کی قربت کا سفر

 

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے. یہ وہ بابرکت زمانہ ہے جس میں مسلمان اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور عبادت و ریاضت کے ذریعے اپنے دلوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں. اسی مقدس مہینے کی ایک عظیم عبادت اعتکاف بھی ہے کہ جو بندے کو دنیا کی مصروفیات سے الگ کر کے اللّٰہ تعالیٰ کی یاد میں محو کر دیتی ہے. اعتکاف دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک روحانی تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے...

 

 

لفظ اعتکاف عربی زبان کے لفظ ”عکف“ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو لازم پکڑ لینا یا اس پر ٹھہر جانا. شرعی اصطلاح میں اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ کوئی مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد میں کچھ وقت کے لیے قیام کرے اور عبادت میں مشغول رہے. قرآن کریم میں بھی اعتکاف کا ذکر موجود ہے. اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

 

 "وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ“

 

ترجمہ:

 ”اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو, یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، پس ان کے قریب بھی نہ جاؤ, اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیات واضح فرماتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں.“

 

حوالہ:

 (سورۃ: البقرہ, پارہ: 2 {سیقول}, رکوع: 23, آیت نمبر: 187, کتاب: قرآنِ مجید)

 

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف ایک باقاعدہ عبادت ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ آیا ہے. اس عبادت کا بنیادی مقصد دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر مکمل طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد میں مصروف ہونا ہے...

 

احادیثِ مبارکہ میں بھی اعتکاف کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے.

 عبداللہ بن یوسف نے یہ حدیث امام لیث سے سنی، انہوں نے عقیل سے، پھر ابن شہاب الزہری سے، پھر عروہ بن الزبیر سے، اور آخر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ:

 

 ”أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ“

 

ترجمہ:

”رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا“.

 

حوالہ:

 (کتاب: صحیح بخاری، مصنف: امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ، باب: کتاب الاعتکاف {رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف}، حدیث نمبر 2026، پرانی درجہ بندی: جلد 3, کتاب 33, حدیث 243)

 

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اعتکاف سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اسے خاص طور پر رمضان کے آخری دس دنوں میں ادا کرنا زیادہ افضل ہے. دراصل رمضان کا آخری عشرہ وہ مبارک وقت ہے جس میں لیلۃ القدر جیسی عظیم رات بھی آتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے. اعتکاف کرنے والا شخص چونکہ مسجد میں قیام کرتا ہے اور مسلسل عبادت میں مشغول رہتا ہے، اس لیے اس کے لیے لیلۃ القدر کو پانے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں...

 

اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے. عام زندگی میں انسان دنیاوی مصروفیات، کاروبار، ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوں میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے اپنے نفس کا جائزہ لینے کا وقت ہی نہیں ملتا. لیکن جب وہ اعتکاف میں بیٹھتا ہے تو اسے ایک ایسا ماحول میسر آ جاتا ہے جہاں وہ سکون اور خاموشی کے ساتھ اپنے اعمال پر غور کر سکتا ہے. وہ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کے لیے بہتر زندگی گزارنے کا عزم کرتا ہے...

 

اعتکاف انسان کے دل کو نرم اور روح کو پاکیزہ بنانے کا بھی ذریعہ ہے. جب بندہ مسجد کے پرسکون ماحول میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے، نوافل ادا کرتا ہے، ذکر و اذکار میں مشغول رہتا ہے اور دعا مانگتا ہے تو اس کا دل دنیا کی محبت سے ہٹ کر اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کی طرف مائل ہونے لگتا ہے. یہی وہ کیفیت ہے جسے روحانی سکون کہا جاتا ہے...

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

”مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، كُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ  الْخَافِقَيْنِ“

 

ترجمہ:

 "جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرے، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتے ہیں، جن میں سے ہر خندق مشرق اور مغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ وسیع ہوتی ہے“

 

حوالہ:

 (کتاب: المعجم الأوسط، مصنف: امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانیؒ، جلد: 7، حدیث نمبر: 7326)

 

اسی روایت کو بعض محدثین نے دوسری کتب میں بھی ذکر کیا ہے، جیسا کہ:

 

 شعب الایمان ازقلم امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقیؒ

 

یہ حدیث اعتکاف کی عظمت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی اس عبادت کو کس قدر پسند فرماتے ہیں. اعتکاف دراصل اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جس میں بندہ دنیا کی فانی چیزوں سے کنارہ کش ہو کر اپنے خالق کے حضور حاضر ہو جاتا ہے...

 

اعتکاف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو صبر اور ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے. اعتکاف کرنے والا شخص کئی دنوں تک مسجد میں رہتا ہے، محدود ضروریات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے. یہ تربیت اسے زندگی کے دیگر معاملات میں بھی صبر اور برداشت کا درس دیتی ہے...

 

آج کے دور میں جب انسان مادی ترقی کی دوڑ میں مصروف ہے اور روحانی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں، اعتکاف کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے. یہ عبادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی ظاہری چمک دمک میں نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے. اعتکاف ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی میں تھوڑا سا وقت بھی اللہ کے لیے نکال لیں تو ہماری زندگیوں میں سکون اور برکت پیدا ہو سکتی ہے...

 

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اعتکاف کو صرف ایک رسم یا روایت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کی کوشش کریں. اعتکاف کا اصل مقصد دل کی اصلاح، روح کی پاکیزگی اور اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے. اگر ہم اس عبادت کو اخلاص اور سچی نیت کے ساتھ ادا کریں تو یقیناً یہ ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے...

 

آخر میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ اعتکاف دراصل انسان کے لیے ایک روحانی تربیت گاہ ہے کہ جہاں وہ اپنے رب کے قریب ہونے کا موقع پاتا ہے. رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جب دنیا کے بیشتر لوگ اپنی مصروفیات میں مگن ہوتے ہیں، وہیں اعتکاف کرنے والا شخص مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوتا ہے. یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب بندہ اپنے رب سے دل کی باتیں کرتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے...

 

اگر مسلمان اس عظیم عبادت کی روح کو سمجھ لیں اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ان کی روحانی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی نیکی، اخلاص اور تقویٰ کی فضا قائم ہو سکتی ہے. اعتکاف ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ بندہ جب اپنے رب کے در پر آ جاتا ہے تو اسے وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کسی دولت میں نہیں مل سکتا...

 

 ؎ مسجد کی خاموشی میں دل کو ملا سکون ہے

ذکرِ خدا کی ساعتوں میں دل سراپا ممنون ہے

دنیا کی ہر چمک یہاں آ کر ہوئی ماند نازؔ

اعتکاف کی خلوتوں میں روح بھی پُرسکون ہے....!!!!!

*************

Comments