Hum janty sab kuch hain phir bhi badalty kiyun nahi article by Tanzil khan Psychologist

*ہم جانتے سب کچھ ہیں، پھر بھی بدلتے کیوں نہیں؟*

 

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم کتابیں دیکھتے ہیں، دوسروں کو مشورے دیتے ہیں  مگر خود اپنی زندگی میں وہی غلطیاں دہراتے رہتے ہیں؟ یہ کمزوری نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کا ایک گہرا راز ہے۔علم اور عمل کے درمیان خلا نفسیات میں اسے Knowing-Doing Gap کہتے ہیں. یعنی جاننے اور کرنے کے درمیان ایک فاصلہ جو اکثر لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جاتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ انسان کا دماغ معلومات کو جاننا اور اس پر عمل کرنا دو بالکل الگ عملوں کے ذریعے انجام دیتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ورزش ضروری ہے لیکن کرتے نہیں اسی طرح رشتوں میں صبر چاہیے، پیسہ سوچ کر خرچ کریں لیکن پھر بھی نہیں کرتے۔ کیوںکہ علم دماغ کے ایک حصے میں ہوتا ہے اور عادت کا تعلق بالکل الگ حصے سے ہے۔

*جذبات اصل فیصلہ ساز*

نیورو سائیکالوجی کے مطابق انسانی فیصلوں کا ستر فیصد حصہ جذبات کرتے ہیں، لوجیکل طریقے سے نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوچ کر فیصلہ کرتے ہیں، مگر حقیقت میں پہلے جذبات فیصلہ کرتے ہیں اور پھر دماغ اس کے لیے دلیلیں ڈھونڈتا ہے۔

*  علم وہ نہیں جو ذہن میں ہو، علم وہ ہے جو زندگی میں دکھے۔  *

 

*تبدیلی کیوں مشکل ہے؟*

نفسیات اسے Status Quo Bias کہتے ہیں۔ انسانی دماغ فطری طور پر موجودہ حالت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے کیوںکہ تبدیلی دماغ کو خطرے کی علامت لگتی ہے۔ اس لیے ہم جانتے ہوئے بھی وہی راستہ چنتے ہیں جو پرانا اور جانا پہچانا ہو، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

 

حل یہ نہیں کہ اپنے آپ کو کوسیں۔ حل یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں، جذبات کو سمجھیں اور عادات کو علم سے نہیں، مشق سے بدلیں کیوںکہ جو ہے آج ہے ابھی ہے کل کا پتہ نہیں اس لیے آج سے خود کو بدلنے کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں کیونکہ دماغ کتابوں سے نہیں، تجربات سے سیکھتا ہے چیزیں explore کریں خود کو آزاد کریں اور محسوس کریں۔

 

*پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا  شکریہ*

 

*Tanzil Khan Clinical Psychologist*

٭٭٭٭٭

Comments