Ana ki nafsiyat aur insani waqar khud farebi se khud shanasi tak Article by Tanzil khan Psychologist
*انا کی نفسیات اور انسانی وقار: خود فریبی سے خود شناسی تک*
انسانی
شخصیت کی تہوں میں چھپی "انا" ایک ایسا پیچیدہ موضوع ہے جس پر سگمنڈ فرائڈ
سے لے کر کارل جنگ تک سب نے بحث کی ہے۔ ایک تھراپسٹ کے طور پر میں نے اسے ایک ایسی
عینک سمجھا ہے جو اگر دھندلی ہو جائے تو انسان کو حقیقت کے بجائے صرف اپنا عکس نظر
آنے لگتا ہے۔ نفسیات میں انا کا توازن ہی ذہنی صحت کی علامت ہے۔
*انا
کے دو متضاد رخ*
نفسیات
ہمیں بتاتی ہے کہ انا کے دو بہت مختلف چہرے ہو سکتے ہیں:
*تکبر
والی انا (Grandiosity):*
جہاں انسان خود کو کائنات کا مرکز سمجھتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ کبھی غلط نہیں ہو
سکتا۔
*کمتری
والی انا (Vulnerability)*:
یہ انا کا وہ رخ ہے جہاں انسان خود کو سب سے زیادہ مظلوم اور بیچارہ دکھاتا ہے۔
"سب میرے خلاف ہیں"، "میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے" جیسی سوچ
بھی انا ہی ہے، کیونکہ یہاں بھی انسان کا پورا دھیان صرف 'اپنی ذات' پر ہوتا ہے۔
شخصیت
کے امراض اور انا کے "بولتے" جملے
جب
ہم مختلف نفسیاتی مسائل کو دیکھتے ہیں، تو انا کے بہت ہی تکلیف دہ روپ سامنے آتے ہیں
جنہیں ان جملوں سے پہچانا جا سکتا ہے:
*نرگسیت
پسند (NPD)*: ان کی انا اس شخص کو کبھی دور نہیں ہونے دیتی
جسے یہ پسند کرتے ہیں، لیکن ساتھ رہ کر اسے سپورٹ بھی نہیں کرتے۔ یہ قدم نہیں اٹھائیں
گے بلکہ چاہیں گے کہ سامنے والا بن کہے سب سمجھ جائے۔
*پہچان
کے جملے:* "ہاں! مان تو لی غلطی، اب اور کیا کروں؟ کیا ساری غلطیاں میری ہی ہیں؟
دوسرا انسان کیا فرشتہ ہے؟" یا "میں کیوں جاؤں ملنے؟ اسے ضرورت ہے تو وہ
خود آئے۔"
*سائیکوپیتھ
(Psychopath)*: ان کی انا 'بے حسی' اور 'کنٹرول' پر مبنی
ہوتی ہے۔ انہیں دوسرے کے دکھ سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
*پہچان
کے جملے:* "تمہارے رونے دھونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو میں نے طے کر لیا
وہی ہوگا،" یا "تمہاری کمزوری تمہارا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔"
*بارڈر
لائن (BPD):* ان کی انا 'خوف' اور 'جذباتی عدم توازن' کا
شکار ہوتی ہے۔ یہ تنہائی سے بچنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
*پہچان
کے جملے:* "اگر تم نے مجھے چھوڑا تو میں اپنی جان دے دوں گا،" یا "تم
بھی باقی سب کی طرح بے وفا ہو، میں خود کو ختم کر لوں گا تاکہ تمہیں پچھتاوا ہو۔"
*عزتِ
نفس (Self-Respect):
وقار کی آواز*
عزتِ
نفس کا مطلب دوسروں سے مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ اپنی نظر میں معتبر ہونا ہے۔ یہ وہ طاقت
ہے جو آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کی قیمت کسی کی گالی یا تعریف سے کم نہیں ہوتی۔
*پہچان
کے جملے:* "میں آپ کی بات سے اختلاف کرتا ہوں لیکن میں اپنی تذلیل کی اجازت نہیں
دے سکتا،" یا "میری غلطی ہے اور میں اسے ٹھیک کروں گا، لیکن میں اپنی ذات
پر کیچڑ نہیں اچھالنے دوں گا۔"
*خودداری
(Dignity): کردار کا خاموش بھرم*
خودداری
دراصل عزتِ نفس کی وہ عملی شکل ہے جو آپ کو "وکٹم کارڈ" کھیلنے سے روکتی
ہے۔ ایک خوددار انسان خاموش رہ کر اپنا بوجھ خود اٹھاتا ہے اور ہمدردی کی بھیک نہیں
مانگتا۔
*پہچان
کے جملے*: "شکریہ! میں اپنی مشکل خود حل کر لوں گا، آپ کی نیک تمنائیں کافی ہیں،"
یا "میں بھوکا رہ لوں گا لیکن اپنے ضمیر اور اصولوں کا سودا نہیں کروں گا۔"
انا
انسان کو "اکڑاتی" ہے، جبکہ عزتِ نفس اسے "سنبھالتی" ہے۔ انا میں
انسان کہتا ہے کہ "میں ہی سب کچھ ہوں"، جبکہ عزتِ نفس میں وہ کہتا ہے کہ
"میں بھی کچھ ہوں"۔
اگر
آپ کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ آپ اپنی غلطی مان کر بھی دوسرے پر احسان جتا
رہے ہیں، یا آپ چاہتے ہیں کہ سامنے والا بن کہے سب سمجھ جائے، تو سمجھ جائیں کہ یہ
آپ کی انا بول رہی ہے۔ انا آپ کو وقتی طور پر تو بڑا دکھا سکتی ہے، لیکن یہ آپ کو اندر
سے اکیلا کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس، عزتِ نفس اور خودداری آپ کو وہ سکون دیتی ہے جس
کے بعد آپ کو دنیا کی گواہیوں کی ضرورت نہیں رہتی۔
بڑا
انسان وہ نہیں جو کبھی نہ گرے، بلکہ وہ ہے جو گر کر اپنی غلطی تسلیم کرے اور اپنے وقار
(Dignity) کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہو جائے۔
*اگلے
کالم میں ان شاءاللہ کمتری والی انا کو ڈسکس کریں گے*
پوسٹ
پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں
موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ
*Tanzeel
Khan Clinical Psychologist*
**************
Comments
Post a Comment