"مٹی سے مناروں تک"
ازقلم: شنیلہ جبین زاہدی
ایک
فقیرِ باصفا کی داستانِ عزیمت
تاریخِ
انسانی کے افق پر کچھ نفوسِ قدسیہ کا ظہور محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی نوید
ہوتا ہے، جن کے وجود کی خوشبو سے زمانے کی مردہ رگوں میں زندگی کا لہو دوڑنے لگتا ہے
اور جن کی نگاہِ بلند کے سامنے وقت کی طنابیں سمٹ جاتی ہیں۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں
ایک قد آور اور درخشندہ نام نباضِ عصر، مجسمہِ اخلاص حضرت پیر سید زاہد صدیق شاہ بخاری
مدظلہ العالی کا ہے، جن کی حیاتِ مستعار کا ایک ایک پل امتِ مسلمہ کے بکھرے ہوئے شیرازے
کو مجتمع کرنے اور انسانیت کے سسکتے ہوئے وجود کو علم و عرفان کی قندیلوں سے منور کرنے
میں صرف ہوا۔ یہ داستان ایک ایسے "مقدس بیج" کی ہے جس نے مٹی کی گمنامی اور
تواضع کی چادر اوڑھنا تو قبول کر لیا، مگر اپنے خونِ جگر سے ایک ایسا گلستاں تیار کیا
جس کی مہک آج سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر عالمِ اسلام کے گوشے گوشے میں پھیل چکی ہے،
اور جس نے بوکن شریف جیسی گمنام بستی کو علم کے آفتاب کا مسکن بنا دیا۔
اس
لازوال روحانی سفر کا سنگِ بنیاد 1972 کی اس ساعتِ سعید میں رکھا گیا جب مشیتِ ایزدی
نے اس سید زادے کا ہاتھ وقت کے قطبِ دوراں، مفسرِ قرآن حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد
کرم شاہ الازہریؒ کے دستِ حق پرست میں دیا، جو محض ایک روایتی بیعت نہ تھی بلکہ ایک
تشنہ لب قطرے کا قلزمِ فیض میں جذب ہو جانے کا نام تھا۔ مرشدِ کامل کی پہلی ہی نگاہِ
التفات نے سید زادے کے قلبِ حساس میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی وہ چنگاری سلگا دی جس نے دنیاوی
جاہ و حشم، آسائشوں کے سراب اور نام و نمود کی ظاہری چمک دمک کو جلا کر خاکستر کر دیا،
اور یہیں سے اس فقیرانہ بے نیازی کا آغاز ہوا جس نے آگے چل کر ایک ہمہ گیر تعلیمی و
فکری انقلاب کی صورت اختیار کرنی تھی۔ ارادت کا یہ سفر جب پختگی کی منزلوں کو چھونے
لگا تو 1976 کا سال بابا حضور کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بن کر آیا جہاں غمِ فراق اور
عطائے ربانی نے ایک ساتھ دستک دی، جب آپ کی عظیم المرتبت ولیہ ماں اس دارِ فانی سے
رخصت ہوتے ہوئے اپنے لختِ جگر کو وہ تاریخی دعا دے گئیں کہ "بیٹا! اللہ تجھے وہ
رنگ لگائے گا جو دنیا تو دیکھے گی مگر میں نہ دیکھ سکوں گی"۔
ماں
کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ دراصل عرشِ بریں سے ہونے والے فیصلے کی گونج تھے، جس
کی تصدیق اس وقت ہوئی جب حضور ضیاء الامتؒ نے بوکن شریف کی سرزمین پر "صبغت اللہ"
یعنی اللہ کے رنگ پر وہ وجدانی خطاب فرمایا جس نے اس سید زادے کی روحانی سلطنت پر مہرِ
تصدیق ثبت کر دی۔ کامیابی کا یہ عظیم الشان سفر کسی مصلحت یا پھولوں کی سیج کا مرہونِ
منت نہ تھا، بلکہ یہ تپتی راہوں پر برہنہ پا چلنے، اپنوں کی بے رخی کے نشتر سہنے اور
حاسدین کے بچھائے ہوئے کانٹوں کو مسکرا کر عبور کرنے کا نام تھا۔ بابا حضور نے جب ان
دینی درسگاہوں کی بنیاد رکھی تو وسائل کی قلت اور مخالفتوں کے طوفان سینہ تانے کھڑے
تھے، مگر واہ رے سید زادے تیرا استقلال کہ تو نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا اور ایک مشفق
مالی کی طرح اس چمن کو اپنے پسینے اور آنسوؤں سے سینچتے رہے، کبھی کسی سے صلے کی تمنا
کی اور نہ ہی کسی فیس یا چندے کا تقاضا کیا، بس ایک ہی دھن تھی کہ نانا ﷺ کی امت کے
بچوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے مناروں تک پہنچانا ہے۔
جس
خاموش انقلاب کا آغاز محض تین کچے کمروں کی چھت تلے ہوا تھا، وہ آج بابا حضور کے اخلاصِ
مجسم کی بدولت ساٹھ سے زائد تعلیمی و تربیتی اداروں کی ایک ایسی درخشندہ کہکشاں بن
چکا ہے جہاں سے نہ صرف قرآنِ کریم کے حافظ اور دینِ متین کے جید علما نکل رہے ہیں،
بلکہ عصری علوم کے ماہرین، ججز، بیرسٹرز، ڈاکٹرز اور پروفیسرز کی ایک ایسی جفاکش فوج
تیار ہو رہی ہے جو باطل کے ہر فتنے کا علمی محاذ پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بابا حضور کی اس بصیرت کا سب سے روشن ثبوت ان کے جگر پارے ہیں، جنہوں نے روایت کی خوشبو
اور جدید دنیا کے تقاضوں کو ایک ہی قالب میں ڈھال دیا ہے، جن میں ڈاکٹر سید حامد فاروق
شاہ بخاری صاحب گجرات یونیورسٹی میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اس علمی
قلعے کے فکری ستون بنے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف بیرسٹر سید عتیق الرحمن شاہ بخاری صاحب
ہیں جنہوں نے اسی خاک سے اٹھ کر قانون کی دنیا کی بلند ترین ڈگری حاصل کی اور ثابت
کیا کہ فقر و درویشی دراصل دنیا پر حکمرانی کا دوسرا نام ہے۔
آپ
کی تڑپ اور بصیرت کا ایک اور شاہکار وہ بلند و بالا ویمن یونیورسٹی ہے جو سفید نورانی
ہالے کی طرح بیٹیوں کے ایمان و آبرو کی حفاظت کے لیے ایستادہ ہے، جہاں ایم فل اور پی
ایچ ڈی تک کی اعلیٰ تعلیم مخلوط نظام کے زہر سے پاک ماحول میں فراہم کی جائے گی تاکہ
امت کی بیٹیاں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی چادر کے سائے میں علم کے افق کو چھو سکیں۔
آج جب ہم بابا حضور کے سفید نورانی چہرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی پچاس سالہ ریاضت
کا ثمر ان کے تبسم میں جھلکتا نظر آتا ہے، وہ وجود جو وقت کی تھکن سے بے نیاز ہو کر
آج بھی اپنی لگائی ہوئی فصل کو دیکھ کر شادماں ہے اور جس کی زندگی کا ہر ورق وفا اور
استقامت کی داستان ہے۔ 8 مارچ کا یہ دن محض ایک تقریب نہیں بلکہ اس عہدِ وفا کا جشن
ہے جو ایک سید شہزادے نے مٹی کو مناروں میں بدل کر نبھایا ہے، اور ہماری دعا ہے کہ
یہ سایہِ عاطفت ہم پر تاقیامت سلامت رہے تاکہ آنے والی نسلیں اس چشمہِ فیض سے سیراب
ہوتی رہیں
***********
Comments
Post a Comment