Bahar ki barkha by Rida Hussaini


بہار کی برکھا

 بقلم:رداحسینی 

دلفریب پرندوں کی اٹھکیلیاں،بارش کی موسیقی ، ہواکی سرسراہٹ، بہار کی سرشار،مجھے خواب گاہ سے بیدار کرکےگھر کے آنگن تک لے آئیں۔۔۔ہر شے کی تروتازگی کو مبہوت دیکھے جارہی تھی۔۔نہ جانے یہ برکھا کافی دیر بعد برسی تھی۔۔ یا ۔۔میں نے آج ایسے برستے دیکھا تھا۔۔؟؟سوال آیا ہی تھا کہ میں سوچ کی بلندیوں میں پرواز کر گئ۔۔میں ۔۔میں اتنی بوسیدہ اور گھٹن زدہ زندگی گزار رہی ہوں۔۔ایسی زندگی جس میں میری روح نیم تاریک ماحول میں قید ہے۔۔یا پھر ایسی جس میں میرے وجود کو  ،شہرت،عزت،دولت جیسی زنجیروں نے جکڑ رکھا ہے۔۔۔محض اس لئے کہ آج انکی کوشش کر لوں کل سنور جائے گا۔۔۔ہاہ۔۔۔بھلا کل بھی کسی نے دیکھا ہے۔۔۔مسئلہ تو یہ ہے کہ میں نے اپنی خوشیوں کو خواہشوں کا غلام بنا رکھا ہے۔۔اور خوشیوں کو تو جیسے خزاں رسیدہ پتوں کی طرح نوچ کر پھینک چکی ہوں۔۔۔نہ ۔نہیں۔۔ایسا نہیں مزید ہونے دوں گی۔۔۔جھٹکا کھاتے ہوئے میں حواس باختہ ہوئی۔۔۔کہ اچانک ہوا کا جھونکا  آیا۔۔ اور ۔۔میرا ہاتھ تھام کر باغیچے میں لے گیا۔۔ننگے پاوں سبزے پر رکھے ٹہل رہی تھی۔۔گدگدی محسوس ہوتی۔۔تو۔۔کبھی لگتا۔۔سبزہ قدم بوسی کر رہا ہو۔۔قدم بقدم ٹہلنے سے محسوس ہونے لگا ۔۔۔کہ جیسے زمین مخمل کی ہے۔۔گویا تاحدّ نگاہ مخمل زمین پر سبزے کی طرح پھیلا ہوا لگا۔۔زمین سے نظر ہٹی تو آسمان پر پڑی۔۔
سورج بادل کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا دکھائی دیا۔۔ اس پونم میں کشف اور کبھی سیاہی دکھائی دینے لگی۔۔قوس وقرح کے رنگوں کا افق بکھیرنا۔۔ہاہ۔۔تو۔۔کبھی  موسلا دار بارش بن کر چھم چھم برسنا۔۔کبھی بادلوں کا چمکنا اور کبھی گرجنا۔۔
"واہ سبحان تیری قدرت!"
 بے ساختہ لب پر یہی الفاظ تھے۔۔ارد گرد نظر دوڑائی تو دیکھتی ہوں۔۔دو تنہا درخت دور سے دکھائی دے رہے تھے۔۔ ہوا کہ جھونکوں سے لطف اندوز ہوتے ۔۔تو کھبی ایک دوسرے کو تھامے رقص کرتے۔۔اور تو اور اہک دوسرے کو بہانے سے گلے لگاتے۔۔تو کبھی اٹھکیلیاں لیتے نظر آ رہے تھے۔۔کیا رومانوی انداز تھا انکا۔۔۔۔ہا۔ہا۔۔۔نکھری نکھری دھلی دھلی کلیاں ،پتہ، بوٹا،پھول،بے ساکھیوں سے مجھے تک رہے تھے۔۔جیسے کہہ رہے ہوں ۔۔"ہمارے بارے میں کیا خیال ہے"ہا۔ہا۔ہا۔۔میں نے نمی کے ننھے شفاف موتی اپنے رخسار پر پھیرے۔۔کبھی رخسار پر پھسلتے ۔۔۔تو کبھی سنبھلتےمحسوس ہونے لگے۔۔اسے لگا جیسے مخمور ہوکر بہک رہے ہوں۔۔پھر ہوا کا گولے دار جھونکا میرے وجود کو دھکیلتے ہوئے ایک اور منظر دکھانے لگا۔۔سبزے میں لہر اٹھتی دکھائی دی۔۔جو ہوا کے جھونکے سے رقص کرتی،لہراتی،اور کبھی سبزے کو سہلاتی،بہلاتی،نظر آئی۔۔دوسری طرف کلیاں ایک تبسم کی خاطر اپنی جوانی کھوتی نظر آئیں ۔۔انداز میں شوخی تو جیسے کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔۔میں پھر سے ٹہلنے لگی۔۔ہر طرف ہر شے کو دیکھتی رہی ۔۔ہر شے اپنے حسن و جمال کو بے نقاب کئے ہوئے تھی۔۔ واہ کیا موسم مسکرا رہا تھا ،ہلکی ہلکی پوویں چلیں،اور برکھا نے بانہیں پھیلائیں تو ہلکی ہلکی پھوار کی چھنٹیں خلق خدا کو شاد کر رہی تھیں۔۔
بنانے والے کا ورد مسلسل جاری تھا۔۔میری روح رقص کر رہی تھی۔دماغ اپنی تاریک کھڑکیاں کھول چکا تھا۔۔تصورات کہیں دور بلندیوں پر تھے ۔۔خود کو آزاد محسوس کر رہی تھی۔۔سوچ رہی تھی۔۔ہم قدرتی حسن کو کیسے نظرانداز کر جاتے ہیں۔۔ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم اپنی اندرونی مسرت کو تلاش کر سکیں۔۔اتنا وقت بھی نہیں کہ زندگی کو محسوس ہی کر سکیں۔۔۔
ہمارا مقصد تو بس دولت ،حرص،خواہش،لالچ تک محدود ہو کر رہ گئ ہے۔۔جن کی تلاش میں ہم اندھیری کوٹھری میں ہی سر پھوڑتے رہ جاتے ہیں۔۔اور زندگی کے چار دن بھی ایسے ہی پورے ہوجاتے پیں۔۔اسی سوچ میں دن کی نرم روشنی نے نقاب اورھ لیا۔۔اور میری آنکھیں اس حسین منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرتے جا رہی تھیں ۔میں نے اس خوبصورت برکھا کو خیر آباد کہا اور دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا۔۔۔جاتے جاتے وہ برکھا ہزاروں خوشیاں دے جا چکی تھی۔۔۔

Comments

Post a Comment