Khawahishon ke sarab by Haya Gul


عنوان: خواہشوں کے سراب

ازقلم :      حیا گل

کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے ہماری اہمیت کم ہو گئی ہے.
دل کہتا ہے وہم ہے تیرا
دماغ کہتا ہے حقیقت ہے یہی. غلط ہم تب بھی تھے جب ہمیں لگتا تھا ہماری اہمیت ہے
 غلط ہم اب بھی  ہیں جب ہمیں لگ رہا ہے ہمارا مقام وہ نہیں رہا.
دھوکا دے رہے ہوتے ہیں خود کو تب بھی اب بھی
 تب اہمیت بڑھا کے اب حثیت گھٹا کے.
اہمیت گھٹتی بڑھتی نہیں اگر ہو تو کم نہیں ہوتی
 اور
 جب لگے کہ کم ہو گئی تو سمجھنا کبھی تھی ہی نہیں.
تب سوال یہی ہوتا ہے کہ ہمیں کیوں لگتا ہے ہماری اہمیت حثیت قدر ہے؟؟؟
دراصل سب ہماری نظر کا دھوکہ ہوتا ہے.
ہماری نظر پہ پٹی بندھی ہوتی ہے اندھے اعتماد کی۔
ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہم اِس ونڈرلینڈ میں اتنے خوش اتنے مطمئن ہوتے ہیں کہ تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
مگر ایک وقت آتا ہے جو میں سمجھتی ہوں سب پہ آتا ہے جو حقیقت سے روشناس کرواتا ہے۔

آتا ہے وہ لمحہ جب حقیقت کی سولی پہ چڑھنا پڑتا ہے جب اذیت کی تپتی روش پہ ننگے پاوں گزرنا ہوتا ہے۔
جب حقائق واضح ہوتے ہیں جب درد کی شدت اِنتہا کو پہنچتی ہے۔
آتا ہے ایسا وقت جب تصویر کا وہ بھیانک رُخ دیکھنے کے لئے تلخ حقیقتیں
 آنکھوں پہ بندھی خوش فہمیوں کی پٹی کو اتارتی ہیں تو حقیقت ہم پہ آشکار ہوتی ہے۔
 تب
 سب سمجھ آ جاتی ہے مگر ہم سمجھنا نہیں چاہتے.
ہم بھاگتے ہیں۔
 ہم چاہتے ہیں کہ کہیں دور چلے جائیں
مگر نہیں جب خُدا نے حقیقتیں دکھانی ہوتی ہیں تو وقت انسان کے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے۔
وقت مہربان نہیں ہوتا تب  وہ گزرتا نہیں
 وقت کو ترس نہیں آتا ہمیں سسکتا دیکھ کر۔
ازیت ناقابلِ بیاں ہوتی ہے.
اور
حقیقت کیا ہوتی ہے
اختیاری مضمون کی حثیت پتہ ھے کیسی ھوتی ھے ویسی اوقات ہماری ہوتی ھے۔۔ھو تو ٹھیک نہ ھو تو فرق نہیں پڑتا ۔زندگی نہیں رُکتی چلتی جاتی ھے ۔
زندگی کی دوڑ میں وہ لوگ آگے نکل جاتے ہیں
 اور ہم پیچھے رہ جاتے ہیں ۔اک سوچ چھوڑ جاتے ہیں ہمارے لیۓ ہم کیا تھے؟
 کہاں تھے؟
 تھے بھی یا نہیں؟
پھر اک چیز ھوتی ھے تلخ حقیقت کڑوا سچ
 جو باور کرواتا ھے ہم کہیں نہیں تھے نہ آج نہ کبھی
 ہمارا وجود بے معنی تھا سچائ ایسے چاروں شانے چِت ھو کر سامنے آتی ھے
 کہ ہمارے جھوٹے دلائل خوش فہمیاں سب راکھ کے ڈھیر بن جاتے ہیں ۔
اُن دلائل کی کوئ وقعت نہیں ھوتی ویسے ہی جیسے ہماری ذات کی کوئ وقعت نہیں ھوتی۔
وہ قدر وہ حثیت جو ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ
 کم ہو رہی وہ کبھی تھی ہی نہیں.
رکھنے والے نے پہلے ہی ہمیں جوتے کی نوک پہ رکھا ہوتا ہے
تو
 قصور کس کا ہوتا ہے؟؟
غلطی کس کی ہوتی ہے؟؟

ہماری ہوتی ہے سراسر ہماری ہوتی ہے
 کہ ہمیں وہ جوتی کی نوک اسکے دل کی سلطنت لگتی ہے...


اک پگلی سی لڑکی تھی
جو زندگی جینا چاہتی تھی
جسے محبت تھی پھولوں سے
جو تتلیوں کی دیوانی تھی
جسے خواہش تھی فلک تک اُڈان کی
جو ستاروں کو تکتی رہتی تھی
جو جینے کی ہر اک کو آس دلایا کرتی تھی
جو نہ مانتی تھی پیار محبت کو
عشق کے افسانوں پہ ہسا کرتی تھی
وہ مگن تھی اپنی ہی ذات میں
وہ کب کسی کی پرواہ کرتی تھی
نجانے پھر کیا ھوا کہ وہ پگلی سرابوں کے پیچھے بھاگی تھی
یہ جانتے ھوۓ بھی کہ سب دھوکہ ھے
قسمت آزمانے نکلی تھی
جو تکتی تھی ستاروں کو
اب بند آنکھوں سے خواب بُنتی رہتی ھے
یہ خواب نہیں سراب ھے جن کے پیچھے
 اپنا سب کچھ کھو بیٹھی ھے
نہیں خبر اُس زمانے کی
اب گھنٹوں سر جُھکاۓ نہ جانے کیا مانگتی رہتی ہے                                        
ہر خوشی دان کرکے بھی متاعِ جاں کھو بیٹھی ھے
مگر آج بھی وہ پگلی
 ہر چہرے میں وہی آشنا چہرہ تلاشتی ھے
ھو کر مایوس پھر آہیں بھرتی رہتی ھے
نہ کچھ کہتی ھے نہ سُنتی ھے
بس کھوئ کھوئ رہتی ھے
اب جینے کی اُسے خواہش نہیں
بس سانسیں گنتی رہتی ھے
ارے دیکھو ناں۔
یہ وہی لڑکی ھے جو جینے کی آس دلاتی تھی
جو زندگی جینا چاہتی تھی۔

Comments