اے ابرِ کرم آج اتنا برس......
افف خدایا! آج تو بہت غضب کی گرمی ھے اوپر سے یہ بس والا
روز دیر کر دیتا ھے.
ماہم دوپٹے سے چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بڑبڑائ.
اتنے میں بس کا ہارن سنائی دیا اور اسکی جان میں جان آئی.
گھر میں داخل ہوتے ہی اسکا ہنگامہ شروع ہوگیا.
اماں!! بہت بھوک لگی ھے جلدی سے کھانا دیں اور پلیز آج پھر
کوئی دال سبزی ٹائپ شاہی کھانا نہ پیش کر دیجئے گا.
ارے پگلی اس مہنگائی کے دور میں دال سبزی تو امیرانہ شوق
ہوگئے ہیں کئ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں دن بھر کی مشقت کے بعد یہ بھی میسر نہیں آتا.
اماں ٹھنڈی لسی کا گلاس تھماتے ہوئے ہمیشہ کی طرح نصیحت کرنا نہ بھولی تھیں.
کھانا اسکی طبیعت کے خلاف پکا ہوا تھا لیکن خاموشی سے کھا
لیا کیونکہ اماں کھانے میں نقص کو خلاف سنت سمجھتی ہیں. وہ کہتی ہیں کہ رسول پاک صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کبھی بھی کھانے میں نقص نہیں نکالتے تھے اگر پسند نہ آتا تو خاموشی
سے کھانا چھوڑ دیتے تھے. یہ سب وہ بچپن سے سنتی آرہی تھی اور اس پر اماں کی باتوں کا
خاطر خواہ اثر ہوتا تھا.
دوپہر کے وقت جب ہر طرف ہُو کا عالم تھا، سورج اپنی پوری
آب و تاب کے ساتھ قہر برساتی نگاہوں سے زمیں کو گھور رہا تھا، چرند پرند بھی اپنے ٹھکانوں
میں دبکے اونگھ رہے تھے، اماں بھی دن بھر کی مشقت کے بعد زرا دیر سستانے کو لیٹی تھیں.
.ایسے وقت میں ماہم سارے گھر میں بولائ بولائ سی پھرتی.اماں لاکھ کوشش کے باوجود اسے
دوپہر کی نیند کا عادی نہیں کر پائ تھیں.گڑیوں سے کھیلنا تو وہ کب کا چھوڑ چکی تھی،
آجکل فیشن میگزین پڑھنے کا مشغلہ اسکے ہاتھ آیا تھا. وہاں رنگ برنگے ملبوسات پہنے ماڈلز
کو دیکھ کر وہ بھی اماں سے ویسا ڈیزائن بنانے کی ضد کرتی. جسے اماں چپ چاپ مان بھی
جاتیں، البتہ جب لباس سل جاتا اور وہ تصور میں خود کو میگزین کی ماڈل جیسا خیال کرتی
آئینے کے سامنے آتی تو اماں حسب سابق اسکی سوچ پر پانی پھیر چکی ہوتیں. ڈھیلا ڈھالا
سادہ لباس دیکھ کر وہ کچھ دیر تو غصہ کرتی مگر کچھ ہی دیر میں یہ سوچ کر نارمل ہو جاتی
کہ یہ اسکی اماں نے اتنی محبت سے سیا ھے.
اچانک فضا میں حبس بہت بڑھ گیا، ہر چیز گویا ساکن ہوگئ.
ایسے میں ماہم کو پورا یقین تھا کہ آج بارش ضرور ہوگی. اللہ اپنے بندوں سے بیحد محبت
کرتا ھے، مشکل کے بعد آسانی ضرور پیدا کرتا ھے، جو کٹھن وقت میں صبر سے کام لیکر خدا
کی عظمت پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر وہ اپنی رحمت ضرور نچھاور کرتا ھے. آج بھی یہی ہوا،
بادل گھر کر آئے اور چند ہی ثانیوں میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا.بارش کا پہلے ایک
قطرہ گرا پھر دوسرا پھر ٹپ ٹپ بارش موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کر گئی. جس نے دیکھتے
ہی دیکھتے ہر طرف جل تھل کر دیا. ماہم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، اماں کے
منع کرنے کے باوجود وہ بارش میں بھیگتی رہی، ایسا لگتا یہ بارش اسکے دل پر گر رہی ہو،
ایسے موسم کے بعد وہ بہت خوش اور پرسکون ہو جایا کرتی جیسے سب پریشانیاں دھل کر ختم
ہو گئی ہوں.
وہ ایسی ہی تھی، ذرا سی بات پر خوش ہو جانے والی، غصہ کر
کے فوراً سے معافی مانگ لینے والی، باتوں کو دل میں نہ رکھنے والی.
جو لوگ قدرتی مناظر میں دلچسپی رکھتے ہیں، چھوٹی چھوٹی خوشیاں
اپنی مٹھی میں قید کر لیتے ہیں ایسے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں. قدرت کے قریب ہونے کی
وجہ سے وہ دل میں میل نہیں رکھتے انکے دل خوبصورت ہوتے ہیں کیونکہ قدرت اور اسکے نظارے
بہت حسین ہیں. آپ جس چیز کو پسند کرتے ہیں وہ غیر محسوس طریقے سے آپ پر اثر انداز ہوتی
ہے.
اک بار میں نے کسی کو کہتے سنا "مجھے بارش نہیں پسند
کیونکہ اسکے بعد بہت کیچڑ ہو جاتا ھے"
بارش جب برستی ھے تو پیاسی زمین کو سیراب کرتی ھے، فضا میں
موجود گردوغبار کو صاف کر دیتی ھے اور حسین نظارہ پیش کرتی ھے ایسے میں جو لوگ اسے
پسند کرتے ہیں وہ اسکی اتنی افادیت کے باعث کیچڑ کو بھی قبول کر لیتے ہیں.
زندگی بھی ایسی ھے، رشتوں پر پڑی بدگمانیوں کی گرد دل کے
شفاف آئینوں کو میلا کر دیتی ھے. ایسے میں پیار اورخلوص کی ہلکی پھوار جب پڑتی ھے تو
نفرتوں کو دھو کر نہایت اجلا اور شفاف منظر پیش کرتی ھے. اسکے بعد اگر تھوڑا بہت کیچڑ
پھیل بھی جائے تو اسے مل کر پیار محبت سے صاف کیا جا سکتا ھے، اپنے پیارے رشتوں کا
ہاتھ تھام کر اس میں سے پھسلے بغیر بآسانی گزرا جاسکتا ھے.
آج ہمارے معاشرے میں نفرتوں کے بیج بوئے جا رہے ہیں کاش
ہماری زندگیاں بھی بارش جیسے ہو جائیں جو آتی ہے تو گندگی کو صاف کر دیتی ھے، بنجر
زمینوں کو سیراب کر دیتی ھے. ہر طرف ہریالی اور خوشی لاتی ھے. کاش ہمارا معاشرہ بھی
اسی طرح بن جائے تو معاشرے میں کتنا سدھار پیدا ہو جائے دل کی کدورتیں دھل جایئں...
کاش.. اے کاش
کوشش کریں کسی کی زندگی میں ہلکی پھلکی بارش جیسے بنیں،
آپکی آمد خوشگوار خیال کی جائے، آپکے آنے سے کدورتیں دھل کر صاف ہوجایئں اور لوگ آپ
سے بار بار ملاقات کی خواہش کریں، آپکے آنے کی دعائیں کی جایئں.
دوسروں کی خوشی کی وجہ بنیں اللہ آپکو بے شمار خوشیوں سے
نوازے گا...
عطیہ ملک📝
Comments
Post a Comment