ہمیں خوبصورتی پسند ہے اچھی بات ہے ہمارا معبود جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا
ہے لیکن سوال یہ ہےخوبصورت ہمیں ہونا چاہئے؟ ہمارے الفاظ کو ؟یاہمارےباطن
کو؟؟؟اللہ اور اسکے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تو باطن کی خوبصورتی پسند
کی جاتی ہے بلال حبشی جیسی خوبصورتی ۔۔ تو ہماری توجہ صرف ظاہری خوبصورتی اور قول کی
خوبصورتی تک کیوں محدود ہو گئی ہے؟ کیونکہ ہمارے نزدیک صرف لوگوں کی اہمیت رہ گئی ہے چند الفاظ تعریف ہماری
کمزوری ہے، بس؟؟؟وہ بھی ان لوگوں سے جو ہمارے
نفع و نقصان کے مالک نہیں جن کا ہمارا ساتھ دنیا کی چند روزہ زندگی ہے بلکہ نہیں چند
روزہ زندگی بھی نہیں اگر آپ زندگی کی دوڑ میں ذرا پیچھے رہ گئے تو آپ کو یاد تک کوئی
نہیں رکھتا ۔تو پھر قول و فعل میں اتنا تضاد کیوں میں ایک مثال دے دیتی ہوں ہم اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لیں قول و فعل کا تضاد دیکھے قول = ہمیں کسی کا دل نہیں
دکھانا چاہئے مخلص لوگ خوش نصیبوں کو ملتے ہیں ان کی قدر کیجئے! فعل= ہماری زندگی میں
کوئی ایسا مخلص آیا ہم نے اس کا نام رکھا بے وقوف زیادہ اخلاقیات نبھا لی تو کہہ دیا
بڑا معصوم ہے بے چارہ، اور اس کا دل اپنے قدموں میں یوں روندتے ہیں کہ ایسے تو کوئی
نسلی گھوڑا بلا وجہ زمین کو نہیں روندتا ہو گا۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں سے موہ لیتا ہے
گفتار
کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
اگر ضمیر زندہ ہوا تو میری بات سچ لگے گی اگر
ایسا ہے تو ہمیں ذرا اندر جھاتی مار
لینی چاہئے اندر کی میل کچیل کو صاف کرنے اور دل کو نکھارنے کے ٹوٹکے آزمانے
چاہئے یہ نکھر گیا تو کیا ملے گا خوبصورتی؟۔تعریف ؟خوشی؟ سکون؟ صرف یہ نہیں اس سے بڑا
انعام مغفرت؟ نہیں اس سے بڑا انعام جنت؟ صرف
یہ نہیں پھر؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔وہ ملے گا ۔۔۔۔جس کا مسکن بندہ مومن کا دل ہے ۔کون اللہ ؟ ہاں اللہ ۔۔۔اللہ جو کائنات کا رب ہے انتخاب آپ
کا /ظاہری فریب یا رب کائنات؟ ؟؟
********
Comments
Post a Comment