عنوان: "اپنی پہچان"
از قلم: شمائلہ ملک
میں
کون ہوں، کیا ہوں، کیوں ہوں، کب سے کب تک ہوں۔ کس کیلئے ہوں۔ اہم یا غیر اہم ہوں یہ
بنیادی سوال ہیں۔ جو ہمیں پتہ ہوں یا کم از کم ہمارے ذہن میں ضرور ہونے چاہیئے۔
ہماری
پہچان ہم سے ہمارے گھر والے، علاقے، قوم، ملک اور مزہب سےتو ہوتی ہی ہے لیکن اگر انفرادی
طور پر دیکھا جائے تو یہ بنیادی طور پر جو ہم خود ہوتے ہیں وہی ہماری پہچان ہوتی ہے۔
آج کل کے دور میں پہچان کا بھی زاویہ بدل چکا ہے۔ لوگ Double
standard دیکھاتے ہیں۔ پر ہمیں لوگوں
سے کیا ہمیں اپنے آپ سے مطلب ہونا چاہیئے۔ ہم اچھے ہیں برے ہیں امیر یا غریب ہمیں اپنے
آپ پر فخر ہونا چاہیئے۔ لیکن آج کل الٹ چل رہا ہے۔ جیسا کہ ایک انسان سے پوچھیں کہ
آپ کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں یا آپ کے آباؤاجداد کیا کرتے ہیں تو اس کے والد اگر
فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہوں تو اور خاندان میں کوئی چچا، تایا، وزیر ہوں تو وہ انسان بجائے اس کے کہ اپنے والد کا تعارف
کروائے کہ میں فلاں سبزی یا پھل فروش کا بیٹا ہوں۔ وہ کہے گا کہ میں فلاں جو وزیر ہے
اس خاندان سے ہوں وہ میرے چچا ہیں۔ حالانکہ اس چچا کو اس کی پرواہ تک نہیں ہوگی لیکن
والد اس پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہو اس کے باوجود اپنے دل و دماغ کی تسکین کےلیے
چچا کا تعارف کرائےگا۔
حالانکہ
آپ کی اپنی پہچان اپنے والدین، بہن اور بھائی سے ہوتی ہے۔ باقی خاندان والوں سے نہیں،
تو ہمیں اپنے آپ کے ہونے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیئے۔ ہم جو ہیں جیسے ہیں فخر سے اپنا
تعارف کروانے والے بنیں۔
محنت
کرنے اور زندگی کا مقصد بنانے کے بعد ہی ہم اپنی پہچان بنانے کے قابل بنیں گے۔ یہ پہچان
اچھے عہدہ سے نہیں آتی۔ ہماری اچھی عادات، اخلاق اور رویّہ بھی ہماری پہچان بن جاتا
ہے۔
اگر
ہم خوش اخلاقی سے کسی سے ملتے ہیں تو وہ اخلاق ہماری پہچان کا ذریعہ بن جائےگا۔ لیکن
اگر ہم بدتميز ہیں یا ہم کسی کے ساتھ دھوکا کیا ہوتو وہ بھی ہماری پہچان ہی بن جائےگا۔
اب
یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح پہچان بنانے کیلئے خود کو تیار کرتے ہیں۔ جب پہچان بن
جائے تو زندگی تیزی سے دوڑنے لگ جاتی ہے۔ ہم مارکیٹ میں مختلف Brands
دیکھتے ہیں انکی قیمت جتنی زیادہ ہو ہم وہاں سے خریداری کرنا پسند
کرتے ہیں۔ اور بہت سکون محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ وہی چیز مارکیٹ میں اس سے مشابہ مارکیٹ
کے دوسرے حصے سے بھی مل جاتی ہے۔ وجہ یہی ہوتی ہے کہ جب Brands
اپنی پہچان بنالیتے ہے۔ یہ دنیا آنکھیں بند کرکے پیچھے چلنا شروع
کردیتی ہے۔
جب
انسان کی پہچان بن جاتی ہے تو دوسرے خوشی خوشی
اس کے دکھ سکھ میں جانا پسند کرتے ہیں۔ گھر آجائےتو محترم سمجھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا ہم فلم یا ڈرامہ اداکار کے ساتھ تصاویر
(Photo) بناوانے کو بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ
ان کےلیے ہماری کوئی ویلیو (value) نہیں ہوتی۔ ان کےلیے اہم ان کے مداح ہوتے ہیں۔ہمیں اپنی پہچان اس
طرح بنانی چاہیئے کہ ان لوگوں کی فکر کریں جن کو ہماری قدر ہو۔ اپنی پہچان کےلیے اپنے
آپ سے دوستی کریں۔ خود میں کام کی محنت، لگن اور جزبہ پیدا کریں۔ محنت کریں اور پہچان
بننے کا انتظار کریں۔ جیسے ہم موبائل(Mobile) پر تصویر بناتے ہیں تو تصویر زیادہ بہتر بنانے کیلئے دس سے پانچ سیکنڈ
کا وقت سیٹ کر دیتے ہیں۔ اور وہ ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ تاکہ تصویر کا رزلٹ اچھا
آئے بلکل یہی چیز ہماری زندگی میں ہے۔اپنی
پہچان کےلیے محنت کرتے جائیں اور اچھے رزلٹ کا انتظار کریں۔
*******************
Bht khoob
ReplyDelete