Aakhir kiun article by Sania Mughal


آرٹیکل

              "آخر کیوں۔۔۔۔؟"

          از ثانیہ مغل( چاؤلی)

ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا
خامشی بھی تو ہوئی تماشائی کی طرح

 ضمیر نے کُوڑے برسائے تو دل یہ سوچتے پر مجبور ہو گیا کہ خود کو سب سے بڑی عدالت یعنی ضمیر کی عدالت میں کیسے پیش کیا جائے۔ 
پیشگی پر دل و دماغ میں کئی دل سوز سوال اُٹھے جنہیں سُن کر ایک لمحے کیلئے مجھے خود کے مسلمان ہونے پر بھی اندیشہ ہونے لگا۔میری روح تک کانپ اُٹھی، نگاہ خود بخود جھکتی چلی گئی، زبان گنگ اور سب لفظ گونگے ہو گئے۔آخر کیوں ۔۔۔۔؟
کیوں کہ  شاید میرے پاس جواب نہیں ہے۔۔
دل نے للکارہ تو دماغ نے قلم اُٹھانے پر مجبور کردیا۔دل و دماغ میں شور مچاتے ,خون چھلکاتے، بین کرتے الفاظ صفحہِ قرطاس پر موتیوں کی طرح بکھرتے چلے گئے۔
کہنے کو الحمداللّٰہ ہم اسلامی مملکت پاکستان کے باشندے ہیں۔جس کی اساس ہی  لا اللّٰہ الہ اللّٰہ پر رکھی گئی۔ پاکستان کا مفہوم تلاشا جائے تو پاک جگہ۔۔۔یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔۔
بے شک پاگ جگہ بھی ہے ۔اللّٰہ کی واحدنیت کو بھی دل و جان سے مانتے ہیں۔۔لیکن صرف مانتے ہی ہیں۔۔آخر کیوں۔؟"
"(پچیس نومبر 2019 سانحہِ سموٹ ۔۔؟؟)  جس نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ ڈالا۔۔چیخوں کی صورت میں ہر زبان پر موجود بے شمار سوالات دماغ پر ہتھوڑے کی طرح وار کرنے لگے۔کہ آخر اتنی درد ناک موت کیوں۔۔۔؟"
"جیت کی خوشی میں جن پھولوں نے گلے کا ہار بننا تھا۔
اُسی جیت کو جواں شیر کی زندگی کی سب سے بڑی ہار بنا کر ان پھولوں کو اسکی قبر کی زینت بنا دیا  گیا۔۔۔ کیوں۔؟“ 
" بے شک ہر ذی روح کی جان اللّٰہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔۔جن سانسوں کو زندگی سے جدا کرنے کا اختیار ربّ تعالیٰ کے پاس ہے ۔۔ آج اسکا استعمال انسانیت کے رتبے سے بھی گرا ہوا درندہ صفت انسان کر رہا ہے۔۔"آخر کیوں۔۔۔۔۔؟" 
"کیا موت اتنی سستی ہے کہ کوئی بھی انسان بہت آسانی سے کسی دوسرے کی جان لے سکتا ہے۔؟ " آئے روز ناجانے کتنے دل دہلادینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
کبھی کسی معصوم کلی کی معصومیت کا قتل کر کے اسے بے رحم موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔تو کبھی کوئی راہ چلتا کسی کی گولی کاشکار  ہو کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔۔ہر خبر کو چند دن نیوز اور آل سوشل میڈیا کی زینت بنا کر اظہارِ افسوس کیا جاتا ہے۔اسی بھیانک موت کو میوزک بیک گراؤنڈ کے ساتھ، اشعار اور چند کتابی باتوں کے ساتھ اپلوڈ کر کے بھلا کون سا ثوابِ دارین حاصل کیا جاتا ہے۔۔؟'' 
"کیا مرنے والے کے حق میں ہمیشہ ہمدردی ہی آئے گی۔۔؟ "
"کیا مجرم اور قاتل ہمیشہ یوں ہی دندنتا ہوا پھیرے گا۔۔؟"
یہاں آپکی توجہ ایک  بڑی اہم بات کی طرف کرواؤں گی ۔تمام مذاہب انسانیت سے محبت کا درس دیتے ہیں ۔اس کے باوجود دنیا بھر میں انسانیت سسک رہی ہے۔کانوں میں گونجتی آہوں کا شور ہے ۔انسان ایک دوسرے پر ظلم وستم کر رہا ہے ۔انسان ہی ظالم اور انسان ہی مظلوم ہے۔انسان ہی انسان کا دوست اور دوست کی شکل میں چھپا بھیڑیا بھی ہے۔انسان نے ہی اپنے جیسے انسانوں کی زندگی میں زہر گھولا ہوا ہے ۔انسان ہی دکھ دیتا ہے اور انسان ہی دکھ بانٹنا بھی جانتا ہے ۔
ایک بات بڑی حیران کن ہے۔ سب انسان انسانیت کا دم بھرتے ہیں ۔آپ مذاہب کو دیکھیں ،سول سوسائٹی ،سیکولرز ،این جی اوز دیکھیں ،ان کو دیکھیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہے ،سب فلاحِ انسانیت کا راگ الاپتے ہیں ،فلاح انسانیت ہی ان کا مقصد ہے اس کے باوجود بلکتے ہوئے انسان دیکھے جا سکتے ،ظلم سہتے بے بس مجبور انسان انسانیت کا ماتم کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ۔۔سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں۔۔؟"
بحثیت مسلمان مجھے اس بات پر اعتراف کرتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میں اس بے حس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں ظلم ،جبر، بربریت ، ذیادتی، ناانصافی نقط عروج پر ہے۔ آخر کیوں۔۔۔؟
 لیکن نہیں۔۔۔!! میرے اندر عقل و شعور اور فہم و فراست کی کمی ہو سکتی لیکن انسانیت کی جذبہ اور ضمیر ابھی تک پوری طرح بیدار ہیں۔ اور اسی انسانیت کے تحت میں آج یہ لکھنے پر مجبور ہو گئی ہوں۔
(پچیس نومبر 2019 بحریہ ٹاؤن اسلام آباد، عثمان فاروق خٹک قتل۔۔!!)
"پاکستان کا فخر اور والی بال کی دنیا کا ایک چمکتا ہوا ستارہ۔جس نے 2004 میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔پاکستان کا نام  روشن کرنے والے اس کہکشاں ستارے کو پچیس نومبر 2019 کو بے درد موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔اس کی سانسوں کی ڈور کو نہایت ہی ظالمانہ طریقے سے توڑ دیا گیا۔ آخر کیوں۔۔؟"
ایک کھلاڑی کی موت ہر شعبہ کھیل کی دنیا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔۔؟''
آج چھ دسمبر یعنی گیارہ دن بیت گئے۔قاتل پکڑے جانے کے باوجود ابھی تک مقتول کی ہسٹری جانچی جا رہی ہے۔۔ کیوں۔۔؟
"ایک شخص کے مر جانے کے بعد پولیس اسکا کریکٹر سرٹیکفیکٹ بنانے کے چکر میں ہے۔۔عجیب بات ۔۔!!"
ایک قتل جسکے بعد دفع تین سو دو کے تحت صرف سزا موت ہے لیکن پولیس ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں کر رہی۔۔کیوں۔۔۔؟
کیا ایسا کر کے پولیس عوام کی توجہ اس کیس سے ہٹانا چاہتی۔۔؟
ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔اور ایک قاتل کی سزا صرف موت ہے۔کیا یہ قانون کتے کی طرح دم ہلاتی پولیس کو سمجھ میں نہیں آتا۔۔؟ 
ایک بھیانک موت کو حادثے کی شکل دے کر سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔؟
کیا آئے روز رونما ہونے والے ایسے دل سوز واقعات کی طرح عثمان فاروق خٹک کے قتل کا چیپٹر بھی کلوز کر دیا گیا۔؟ 
اس کے بعد کیا ہر کھلاڑی کی موت ایسی ہی ہوگی۔؟  
 کیا سب حکمرانوں کے ضمیر مُردہ ہو چکے ہیں۔؟
کیا قانون ،قانون،ایمانداری اور انصاف کا راگ الاپنے والوں کا منہ پیسے ٹھونس کر بند کر دیا جاتا ہے۔؟ پیسے کے عوز اپنے ایمان کی قیمت لگانے والے یہ عہددار عام عوام کیلئے ناسور بنتے جا رہے ہیں۔
"کون سی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔۔؟  انصاف کہاں سے ملے گا۔۔؟ شاید کہیں بھی نہیں ۔کیوں کہ انصاف کرنے کیلئے منصف کا ہونا ضروری ہے اور یہاں ہر چہرے کے پیچھے چھپا ایک کالا بھیڑیا ہے۔۔"
یہاں میرا سوال پاکستان کے مشہور و معروف اینکر پرسنز سے بھی ہے۔۔
"حق و انصاف کا پرچم بلند کرنے والے اقرار الحسن صاحب اب کہاں ہیں۔۔؟ حق کا جذبہ کہیں دفن ہو گیا یا محض جھوٹے قصے بنا کر انصاف کی بڑکیں ماری جاتی ہیں۔۔آپ اپنی "سر عام" ٹیم کے ساتھ کب محسن فاروق کے قاتلوں کو سر عام سزا دلوانے کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں۔؟ "
 "کھرا سچ " جیسے بڑے بڑے پروگرامز کرنے والی جانی مانی شخصیت مُبشر لقمان اپنے کس پروگرام میں والی بال کی پہچان محسن فاورق قتل کے حقائق کا کھرا سچ اگلوانے کو تیار ہیں۔؟"
"آف دا ریکارڈ  " فیمس شو کے اینکر پرسن کاشف عباسی صاحب میں آپ سے بھی مخاطب ہوں۔ کیا آپ کو اپنے آس پاس کچھ نہیں دکھ رہا۔۔؟ کیا سارا میڈیا بھی بھنگ پی کر سو رہا ہے یا اس خبر میں آپ سب کے چینلز کی ریٹنگ کے کم چانسسز ہیں۔۔؟ جو ایک اور خون رائیگاں کرنے پر تلے ہیں۔۔آپ کب محسن فاروق کے لواحقین کو "آف دا ریکارڈ" میں پوری دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔؟  
 "میرا سوال پریزڈنٹ آف پاکستان عمران خان صاحب  سے بھی ہے ۔جو پہلے خود شُعبہِ کھیل سے وابستہ رہے اور اب  ریاستِ مدینہ کی تقاریر جھاڑتے نظر آتے ہیں۔۔
خان صاحب اگر آپ ایک کھلاڑی کے قاتلوں کو انکے کیفر کردار تک نہیں پہنچاتے تو آپکی زبان کھیل سے جنون کی باتیں اور انصاف کے سہنری قول کیوں کر ادا کر سکتی ہے۔۔؟ ایک کھلاڑی کا قتل ہر کھیل کا قتل ہے۔ صرف سوچیے گا نہیں بلکہ قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچانا ہے۔۔کیوں کہ سوچنے پر وقت برباد ہوتا اور آئی ہوپ کہ آپ اپنا قیمتی وقت اور عوام کے احساسات اور  جذبات کو مجروح کیے بنا جلد از جلد قاتلوں کے گلے میں پھانسی کے پھندے ڈلوائیں گے۔۔آپ نے ہی اقوام متحدہ میں کیے گئے خطاب میں انصاف کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ۔۔۔۔!!
"ہالی وڈ کی فلم آئی تھی جسکا نام تھا "ڈیٹھ وش" اس فلم میں ہیرو کو کچھ لوگ لُوٹتے ہیں اور اسکی بیوی کا قتل کر دیتے ہیں۔ہیرو کو انصاف نہیں ملتا تو وہ بندوق اُٹھا کر سب کرمنلز کو مارنا شروع کر دیتا ہے۔۔سینما میں بیٹھے لوگ اسے داد دیتے ہیں۔۔"
 اس خطاب میں آپ نے بہت ہی خوبصورت میسج  کنوئے ( convey) کیا تھا کہ اگر انصاف نہ ملے تو اپنے لیے خود اُٹھو۔آگے بڑھو اور اپنے ساتھ ہوئے ظلم اور ناانصافی کا بدلہ خود لو۔۔جو انشاء اللّٰہ یقیناً لیا بھی جائے گا۔
اگر اب بھی آواز بلند نہیں کی گئی تو کسی کیلئے بھی سانسوں کو زندگی سے الگ کرنا مشکل نہیں ہو گا۔۔میں نے اپنا حق قلم کے ذریعے بلند کیا اور جب تک جہاں تک ممکن ہوا انشاء اللّٰہ کروں گی۔اور آپ سب سے بھی اس سب کی امید رکھتی ہوں کیوں کہ ہم عوام ہمارے محسن فاروق خٹک کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔یہ چیپٹر اب قاتلوں کو تختہ دار پر چڑھانے کے کے بعد ہی کلوز ہو گا۔
میں ،میری آواز اور میرا قلم ہمیشہ انصاف کیلئے کوشاں رہے گا ۔آپ بھی آگے بڑھیں اور محسن فاروق کی آواز بنیں۔۔ 
جزاک اللّٰہ خیر۔۔
نوٹ۔۔۔!!  * یہی آرٹیکل انشاء اللّٰہ کچھ دن بعد انگلش فارم میں بھی آئے گا۔۔*

Comments