شکر گزاری
قدیم مذہبی تعلیمات کا کہنا ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کو جو
کچھ دیتے ہیں وہ ہمارے پاس سوگنا بڑھ کر بھرپور انداز میں واپس لوٹتا ہے۔ اسلے شکریہ
ادا کرنا نہ صرف اہمیت کا حامل ہے بلکہ زندگی میں ایک جادوئی کردار ادا کرتا ہے ۔ ہم
میں سے زیادہ تر لوگ روزانہ بہت سے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں ۔ وہ رابطہ موبائل ، SMS
، ای میل یا پھر چلتے پھرتے سفر کرتے انجان لوگوں سے بھی ہو سکتا
ہے۔ ان لوگوں میں سے اکثر لوگ ہمارے شکریہ کے حقدار ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان سے کچھ فائدہ
لے رہے ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے متعلق سوچیں جو ہمیں کسی نہ کسی طرح اپنی خدمت فراہم
کرتے ہیں ۔ جسے کہ ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے لوگ جو وآپکو کھانا فراہم کرتے ہیں،
اسی طرح بس اور ٹرنین کے ڈرا ئیور جو آپکو سفر کرنے میں خدمت فراہم کرتے ہیں، اور آخرمیں
جمعدار جو کہ صبع سویرے ہمارے اٹھنے سے پہلے ہی گلیوں کی صفائی کا کام کرنے میں مصروف
ہو جاتے ہیں ۔ یہ سب لوگ آپ کے شکریہ کے حقدار ہیں۔
جس کے پاس ہے اسے مزید دیا جائے گا اور وہ کثرت سے حاصل
کرے گا ، جس کے پاس نہیں ہے ، حتٰی کہ جو کچھ
اس کے پاس ہے وہ بھی اس سے لے لیا جائیگا ۔ ان چند لائنوں کو صدیوں سے غلط سمجھا گیا
ہے ۔ آپکو بھی یہ ماننا ہو گا کہ جب آپ نے ان لائنوں کو پڑھا تو آپکو بھی یہ ناانصافی
والی بات لگی ہو گی ۔ آپ نے سمجھا ہو گا کہ امیر امیر ہو جائیں گے اور غریب مزید غریب
ہو جائیں گے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ دراصل
ان لائنوں میں ایک ہی لفظ پوشیدہ ہے جسکو آپ اور میں سمجھنے سے قاصر ہیںاور وہ ہے اظہارِشکر۔
جو شخص شکر ادا کرتا ہے اسکو مزید دیا جاتا ہے اور جو شکر ادا نہیں کرتا اسکے پاس جو
ہے وہ بھی لے لیا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ :
اور (یاد رکھو ) جب خدا نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو
گے تو میں تمہیں اور دوں گا ، لیکن اگر تم ناشکری
کرو گے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ میں سخت عذاب دینے والا
ہوں
(سورت ابراہیم۔آیت ۷۰ )
آپ دینا کے تمام مذاہب کا مطالعہ کر کے دیکھ پس آپ کو اندازہ
ہو گا کہ تمام مذاہب شکرگزاری کا حکم دیتے ہیں۔ آجکل کے ماڈرن ٹائم میں یہ ثابت ہو
چکا ہے کہ شکریہ کے الفظ نہ صرف تعلقات قائم رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ آپکی
سوچ کو بھی مثبت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شکرگزاری کے موضوع پر بے شمار کتابیں
لکھی جا چکی ہیں۔ یہ الفظ آپ پر اور آپکی زندگی پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ کائنات اور سائنس
کے بنیادی اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔
تحریر : زاہد حسن
Comments
Post a Comment