Pak sarzameen shad bad by Bint e Anwar



پاک سر زمین شاد آباد

مسلمانانِ ہند کی آزادی پہ لکھنا میرے لیئے مشکل ترین کام ہے۔۔۔۔ کم از کم یہ وہ واحد موضوع ہے جو تاریخ ہونے کے ساتھ ساتھ عملی مثالیں میرے سامنے ذندہ و جاوید مگر ٹوٹے پھوٹے اور لہو لہان جان سے پیارے عزیزوں کے وجود کی صورت میں پیش کر چکا ہے۔
کیونکہ میرے خاندان کا شمار ہندوستان کے ان خاندانوں سے ہوتا ہے جو سب کچھ لٹا کر یہاں تک آئے ۔۔۔۔۔ بچپن میں اتنی عقل ہی کہاں تھی جو سمجھ پاتی کہ ہمیں عالم پوریے(ہندوستان میں ہمارے آباوجداد کا مسکن) کیوں کہاں جاتا ہے۔
چودہ اگست بچپن میں جھنڈیاں لہراتےچھتوں پہ پرچم  سجاتے اور چہرے پہ پرچم بنواتے گزر جاتی۔ کبھی محسوس ہی نہیں کر پائی تھی کہ میرے کتنے عزیز آج کے دن کتنے کرب سے گزر رہے ہیں۔ ان کی چہروں پہ اذیت رقم ہے اور آنکھوں میں وحشت بھری ہوئی۔ دادا جان(مرحوم) کے گزر جانے کے بعد ہوش سنبھالا تب ایک دفعہ چودہ اگست پہ تایا جان(پاپا کے کزن ) کو آنکھوں میں ایک عجیب سے تاثر کے ساتھ بیٹھے پایا یک ٹک ایک ان دیکھے نکتے پہ مرکوز۔ اب بھی جب ان کا یوں بیٹھنا یاد آتا ہے بے اختیار بدن میں سنسناہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ میرے وہ تایا جان ہمیں سب سے زیادہ سخت جان لگتے تھے ۔ بے اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا لگاوُ تھا ہمارے ساتھ ورنہ محلے کا بچہ بچہ ان سے ڈرتا تھا ۔۔۔۔۔ پھر ہوا یہ کہ ان کی آنکھیں ہمیں صحن میں جھنڈیوں سے کھیلتے دیکھ کر بے اختیار چھلکنے لگیں۔
میرے پوچھنے پر یہاں تک کہ بھائی کے پوچھنے پر بھی بات کو ٹال گئے شاید وہ اپنے درد میں بچوں کو شریک نہیں کرنا چاہتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوتے ہوتےمجھے اتنا اندازا ہو گیا تھا کہ چودہ اگست کی خوشیوں کی قیمت میرے خاندان نے بھی ادا کی تھی ۔۔۔۔۔ مگر کس قدر یہ اس دن پتہ چلا جب تایا جان بلک بلک کر روتے ہوئے کہنے لگے میرے سامنے میرے بھائیوں کو زندہ جلانے والا منظر باوجود کوشش کےمیں آج تک نہیں بھول پایا۔
میری نانی جان(مرحومہ)  نے ہمیں اپنی ہجرت کی داستاں سنائی گو کہ وہ بھی باقی سب لٹے پٹے مہاجروں کی طرح ہی ہے مگر میرے ذہن ناتواں کے لیئے وہ ان کہانیوں سے بھی ذیادہ دردناک اور المناک تھی جن میں شیطان کسی معصوم بچی کے سامنے اس کے ماں باپ بہن بھائیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نوچے جانے کے لیئے پھینک دے۔
اس بچی کی حالت اپنی بوڑھی دادی جن کا پیٹ چاک کیا ہو ان کے ساتھ  اور اپنے لہولہان اور پل پل مرتے وجود کے ساتھ کیسی ہو گی؟
اور وہی دادی راستے میں دم توڑ دے تو۔۔۔۔
دادا جان جن کے بارے صرف اتنا جان پائے کہ ان کی پہلی بیوی شہید ہو گئیں ایک روتی بلکتی بیٹی چھوڑ کر۔ وہ پھوپھو جان اس سال وفات پا چکی ہیں مگر اپنی وفات سے پہلے ہمیں دل کے زخم جو اس دن تک بھی تازہ اور اتنے ہی گہرے تھے دکھا گئی ۔ اللہ درجات بلند کرے!

ہر چودہ اگست کو اپنے کشمیریوں کی بھی یاد ضرور آتی جن کی آزادی ہماری آزادی سے لیکر اب تک گروی پڑی ہے جو آج ستر سالوں تک بھی وہی نذرانے پیش کر رہے جو ہمارے عزیزون نے کیئے۔ غیرت مند کشمیری مائیں آج بھی اپنے لال اس مٹی کو آزاد کروانے کے لیئے بےدھڑک پیش کر رہیں ہیں۔اور اس چودہ اگست پہ تو میری ذات ان کی آزادی کی تڑپ دیکھ کر طعنے دے رہی ہے کہ مجھے آزادی مفت مالِ غنیمت کے طور پر ملی اسی لیئے اس دن بھی ایک آدھ انڈین گانا سن کر ٹھمکے لگانے میں عار محسوس نہیں کی جاتی۔

بس تب سے چودہ اگست خوشیوں کے ساتھ آنسو ضرور لاتی ہے۔ اس دن ہاتھ ہیں کہ کچھ لکھنے سے انکاری ہو جاتے
بس اتنی ہی دعا ہے اللہ رب العزت ان آزادی کے متوالوں کے درجات بلند کرے۔
یااللہ! بیشک یہ دھرتی صرف اور صرف اسلام کے نام پہ حاصل کی گئی تھی اور اس راہِ حق پہ ناجانے کتنی مائیں ،لاڈلی بہنیں، پھولوں سے نازک بیٹیاں، کتنے شفیق باپ، نخرے اٹھانے والے بھائی،اور کڑیل جواں بیٹے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا ۔ان شہیدوں کو کیئے گئے وعدہ کے عین مطابق ان کو بلند و بالا مقام عطا کیئے گئے ہونے ان کے صدقے ہم پر ہمارے پاکستان پر رحمتیں نازل فرما اور تب سے آزادی اور پرچم ہلالی میں لپٹنے کے لیئے تڑپتے کشمیریوں کی مدد فرما !

Too Lengthy i know.... Ooops Boring
Well have a good day. Enjoy it⭐⭐⭐
Bîñt Ë Åñwãr

Comments