ازقلم: خدیجہ نور
میری طرف سے آپ سب کو اور آپ کی فیملی کو دل کی گہرائیوں سے آزادی مبارک۔ آپ سب یہ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ ملک ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کی بےانتہا محنت کے بعد یہ وطن ہمیں ملا جس میں آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم اس ملک میں جیسے چاہیں رہ سکتے ہیں۔
ہمارے بزرگوں نے کئی جنگیں لڑی تاکہ ہم آزادی کی زندگی گزار سکیں۔ ہم آزاد ہوگئے لیکن افسوس کہ ہماری سوچیں آج بھی یہودیوں کی غلامی کررہی ہیں۔
یہ وطن حاصل کرنے کا مقصد تھا کہ مسلمان آزادی سے اسلام کے احکامات پر عمل کرسکیں لیکن یہاں ہم آزاد ہونے کے باوجود اسلام کو فراموش کرچکے ہیں۔
آج چودہ اگست ہے۔ یہ کوئی معمولی دن نہیں ہے۔ میں نے عام طور پر یہ دیکھا ہے کہ اس دن ایک طرف جہاں حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اس دن کو منایا جاتا ہے وہیں پر کچھ لوگ انڈین گانے بجاکر یہ دن مناتے ہیں۔
بےشمار لڑکیاں سڑکوں پر بےپردہ نکل آتی ہیں۔ کہیں کہیں لڑکے کسی انڈین گانے پر مزے سے ڈانس بھی کررہے ہوتے ہیں۔
ہم تو آزاد ہیں لیکن ہمارا ذہن اب بھی یہود قوم کی گرفت میں ہے۔
چھوٹے بچے بہت دل سے رنگ برنگی جھنڈیاں خریدتے ہیں۔ بعض لوگ تو جھنڈیاں خرید کر ہوا میں آراتے ہیں۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ جھنڈیاں زمین پر بوس ہوئی نظر آتی ہیں۔ جن جھنڈیوں پر ہمارے وطنِ عزیر کانام بھی لکھا ہوتا ہے۔
پاکستان کا مطلب کیا؟
لاالہ الاﷲ
اور لوگ ان جھنڈیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں پیرو تلے روند کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آج قائد ہمارے درمیان ہوتے اور وہ ملک کا نام اس طرح زمین پر کبھی نا گرنے دیتے؟ ہمارا پرچم کوئی عام پرچم نہیں ہے۔ ہمیں اپنے پرچم کی بھی عزت کرنی چاہیئے۔
یہ آزادی ہمیں مفت میں نہیں ملی۔؟
ہماری سڑکوں پر لڑکے انڈین گانے بجاکر ناچ رہے ہوتے ہیں۔ یہ ملک ہمیں ملا تھا تاکہ ہم اسلام کے مطابق زندگی آزادی سے بسر کرسکیں لیکن ہماری نوجوان نسل میں جہاں حب الوطنی جا جذبہ ہے وہیں کچھ لوگ اس سے بالکل بےپرواہ بھی ہیں۔
آزادی کی اہميت ان سے بہتر کون جانتا ہوگا جو آج کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ہم ان کے لئے سوائے افسوس کے کچھ نہیں کررہے۔ ہم اپنا فون اٹھاتے ہیں. فیسبک پر کشمیر کے حوالے سے پوسٹ پڑھتے ہیں اور پھر کمنٹ میں دعا لکھ کر بات ہی ختم کر دیتے ہیں۔ آزادی اس طرح نہ ملی ہے نہ ہی ملے گی۔ بےشمار ماؤں کی دعاؤں سے ملا تھا ہم کو یہ پاکستان۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارے بچے پاکستان کی اہميت نہیں جانتے۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہماری بچیاں محفوظ نہیں ہیں۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارے بھائی اپنے گھروں میں بھوکے سو رہے ہیں۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارا پرچم زمین پر گرا ہوا ہے۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارے لوگوں کو ان کا حق نہیں مل رہا۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارے لڑکے انڈین گانوں پر ناچ رہے ہیں۔
کیا ہم آزاد ہیں؟
جب ہمارے ہی ملک میں اردو بولنے کا والے کا مزاق بنایا جائے اور انگلش سیکھنے کےلئے لوگ سینٹرز جوائن کریں۔
کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
جی ہاں ہم آزاد ہیں لیکن ہماری سوچ آزاد نہیں ہے۔ قائد نے یہ آزاد ملک ہمیں دےدیا لیکن اب ہمیں ایک آزاد قوم خود بننا ہوگا۔
مختصر اتنا کہنا چاہوں گی کہ آپ چودہ اگست جیسے بھی منارہے ہیں۔ لیکن ایک بار اپنے وطن کے لئے شکرانے کے دو نفل پڑھ لیں۔ ﷲ کی بارگاہ مین ہاتھوں کو بلند کرکے اپنے وطن اور کشمیر کے لئے دعا کریں ۔
** ختم شدہ **

Comments
Post a Comment