Jahez by Muniba Gul

”جہیز
جہیز سے مراد گھریلو استعمال  کی وہ اشیا۶  جو لڑکی کو اس کے گھر والے تیار کرکے دتیے ہیں۔جہیز دینا کوٸ برُی بات نہیں ۔اس کے بہت سارے فواٸد ہیں اور  پڑا فاٸدہ یہ ھے کہ لڑکی کو اپنی اہمیت کا احساس ھو جاتا ہے .وہ سمجھتی ھے کہ جسں گھر میں اس نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارا اور اب اس گھر سے جدا ھو رہی ھے اس گھر کے اافراد کے دلوں میں اس کی قرر وقیمت اب ابھی موجود ھے.انہوں نے اس کو اس  نٸے گھر میں بے پرواٸ اور بے مروتی کے ساتھ نہیں بھجا بلک حتی المقرور اس کی ھے۔لیکن آج کل ہمارے ہاں جہیز کا جو سلسلہ چل نکلا ھے یہ بہت ہی مضر اور خطرناک ھے۔اس لیے کہ اس نے برُے رواج کی شکل اختیار کرلی ھے اور اب اس رواج کی بنا پر بہت ساری خواتین ثوری زندگی والدین کے گھر میں گزارنے پر مجبور ھوتی ہیں اس لیے کہ ان کے والدین غریب ھوتے ہیں وہ انھیں  جہیز نہیں دے سکتے اور جہیز کے بغیر کوٸ لڑکا والدین کی حیثیت کو دیکھیتے ہیں اور ان سے طے کراتے ہیں کہ وہ لڑکی کو جہیز میں کیا کچھ دیں گے ۔اس قسم کے جہیز کو کھبی بھی اچھا نہیں کہا جاسکتا۔یہ تو ایک لعنت اور ذلت ھے جس نے ہمارے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ھے۔اس وقت جن والدین کے ہاں تین چار لڑکیاں ھوتی ہیں ان کے لیے آرام سے زندگی  گزارنا مشکل ھو تا ھے.اس لیے کہ ان کے جہیز کے لیے انہیں چالیس،پچاس لاکھ روپیہ کی ضرورت ھوتی ھے۔اور اتنی رقم ہمارے معاشرہ کا عام آدمی اپنی پوری زندگی  میں نہیں بچا سکتا۔نتیجہً انھیں اپنی جاٸیداد بیچنی پرتی ھے۔قرض لینا پڑتا ھے اور بعض مرتبہ تو لڑکی کی ماں اپنے زیور بیچنے پر مجبور ھوتی یے ۔اس وقت ھمارے ملک کے بڑے شہروں میں خواتین کی بڑی تعداد محض اس لیے گھروں  میں بیٹھی ھے کہ ان کے والدین غریب ہیں۔ان کے پاس جہیز کے لیے رقم نہیں ھے ۔سوچنا چاھیے کہ ان خواتین کے دل پر کیا گزرتی ھوگی اور ان کے والدین کتنے پریشان ھوں گے؟ لیکن افسوس ! ان کے بارے میں سوچنے والا کوٸ بھی نہیں ۔یہ مصیبت ہمارے معاشرہ میں کیوں پھیلی اور کیسے پھیلی؟اس کا بنیادی سبب یہ ھے کہ ہم نے حضور اکرمﷺ کی ہدایات اور تعلیمات کو پس تشت ڈال دیا ھے اور ان کے مقابلہ میں خود ساختہ رسموں اور رواجوں کو اپنا لیا ھے۔جب تک ہم اسلام کی تعلیمات کو نہیں اپناٸیں گے،اس وقت تک ہماری حالت اسی طرح خراب سے خراب تر ھوتی جاۓ۔یہ صرف اس ایک رسم کی بات نہیں ۔ہمارے معاشرہ میں کتنی رسمیں ھیں جو  ہمیں زوال کی طرف لے جارہی ہیں۔لیکن ہمیں اس بات کا احساس نہیں،شعور نہیں۔علامہ اقبالؒ نے آج سے بہت پہلے کہا تھا کہ:
حقیت روایات میں کھو گٸ
یہ اُمت خرافات میں کھوگٸ
حضور اکرمﷺ  نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے ساتھ جو کچھ دیا تھا اس کے بارے میں حضرت علی کرم الله وجہہ کہتے  ہیں
ترجعمہ
”رسول الله ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ زہرا رضی عنہا کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی:ایک پلودار چادر،ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ھوٸ تھی۔،،
اس حدیث کا مطلب یہی ھے کہ رسول الله ﷺ نے یہ چیزی(چادر،مشکیزہ،تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی الله  عنہا کے نکاح کے موقع پر”جہیز“کے طور دی تھیں۔لیکن تقیقی بات یہ ھے کہ اس زمانہ میں عرب میں شادی  کے موقع پر لڑکی کو جہیز کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور جہیز کا لفظ بھی  استعمال نہیں ھوتا تھا۔اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلہ میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا کے علاوہ حضوراکرم ﷺکی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم  کے جہیز کا ذکر نہیں آیا ”۔جھَز “ کے معنی اصطلاحی جہیز  دنیے کے نہیں بلکہ ضروریات کا انتظام  اور بندوبست کرنے کے ہیں۔حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے لیے حضور اکرم  الله ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علی  کرم الله وجہہ کے سر پرست ھونے کی حیثیت سے انھی کی طرف سے اور انھیں کے پسیوں میں سے کیا تھا۔کیو نکہ یہ ضروری چیزیں ان کے میں نہیں تھیں۔روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ھو جاتی ھے۔بہر حال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا۔💗💗💗

Comments