تحریر " آمنہ زینب"
آج کی
بات
آج
کالج سے نکلتے ہوئے ،مجھے روزمرہ کی طرح گھر پہنچنے کی جلدی تھی ،اپنی دوست کے
ساتھ ہم کالج سے دونوں باتیں کرتے ہوئے بس
سٹاپ میں بس کا انتظار کرنے لگی ۔ اپنی فرئیڈ سے باتیں کرتے ہوئے نظر میری روڈ کے
دائیں جانب ہی تھی کیونکہ بس نے روزمرہ کی طرح دائیں جانب سے ہی آنا تھا۔بس بھی
روزمرہ کی طرح آج پھر لیٹ تھی مگر مجھے
موسم شدید گرم ہونے کی وجہ سے آج کچھ زیادہ ہی گھر لوٹ آنے کی بے چینی تھی
۔
مال روڈ کے چوک میں کھڑی بس کا انتظار
کررہی تھی کہ ایک موٹرسائیکل پر سوار اجنبی میرے دائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا جبکہ
وہ بھی گرمی کا مارا تھا اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرنے کیلئے رومال اپنی جیب سے
نکالا ، اور اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے مجھے دیکھ رہا تھا،جب کے ایک ہاتھ
میں ہیلمٹ تھا اس اجنبی کےاور کچھ ساماں، جبکہ دوسرے ہاتھ میں بچہ اٹھائے ہوئے تھا
وہ بچہ جوخاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میرے دیکھتے دیکھتے اس اجنبی آدمی نے ہزار ایسی کوششیں کی، جس سے
بچے کا جی بہل جائے ۔بڑا تو بڑا بچہ بیچاراکیا کرتا آخر وہ بھی تو گرمی کا ستایا
ہوا تھا ۔وہ مجھے دیکھ رہا تھا اس لئے نہیں کے میں اچھی لگ رہی تھی یا پھر وہ مجھ
پر لائن مار رہاتھا بلکہ اسلئے دیکھ رہا تھا وہ مجھ سے ہیلپ چاہتاتھا ۔
ابھی
ہیلپ کاکہنے ہی لگا تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی آئی بچہ پکڑ کر اجنبی سےکہنے لگی "آپ سے تو ایک بچہ نہیں
سنبھالا جاتا" یہ سن کر مجھے یقین ہو گیا اسکی بیوی ہے۔
اور پھر کیا جو مرد دوسروں کے سامنے
شیر بنے پھرتے ہیں خاموشی سے جی جی کرتا ہوا مجھے کہہ گیا جسے سن کر میں حیرت
سےاسے دیکھ کر مسکرانے لگی جیسے میں نے کہا تھا ہیلمٹ پہننے کا ۔۔۔۔۔
بیان تھا اجنبی کا " ایک تو بند
اپنا بچہ اٹھائے، اور دوسرا Government کامسلط کیا ہوا یہ بچہ
ساتھ لےلےکر گھومتا پھرے" (ہیلمٹ کی طرف اشارہ کرتےہوئے ) کہہ کے موٹرسائیکل
پر سوار ہو کر چلا گیا اس انداز سے گلہ کیا مجھ سےجیسے قانون میں نے بنایا ہو
۔۔۔لیکن اجنبی کی بات سنتے ہی میرے ذہین میں خیال آیا ،کے ہیلمٹ پہننے سےتو انسانی
زندگی محفوظ رہتی ہے،ہر قسم کے پیش آنے والے حادثات میں قدر حد تک خود کو محفوظ
رکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔جبکہ انسانی زندگی
میں چہرہ اور سر بہت اہمیت رکھتے ہیں سر پر چھوٹی سی چوٹ انسانی موت کا سبب
بن سکتی ہےلیکن ہیلمٹ کا استعمال تو ہرانسان کو دورانیے سفر کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں "ہر انسانی جان قیمتی ہے
**************
Comments
Post a Comment