Ek adhoora khat by Khadija Noor


اک ادھورا خط۔۔۔
خدیجہ نور
میرے بابا کے نام۔۔۔
السلام علیکم بابا !
بابا میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔ بابا آپ پلیز واپس آجائیں۔ بابا آپ کے بغیر زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے اب احساس ہورہا ہے کہ کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ آپ بہت اچھے تھے بابا لیکن میں اچھی بیٹی نہیں تھی۔ مجھے یاد ہے میں آپ سے بہت ضد کرتی تھی اور آپ محنت کر کے میری ساری فرمائشیں پوری کرتے تھے لیکن میں پھر بھی خوش نہیں ہوتی تھی۔ آپی مجھے کہتی تھیں کہ بابا کو تنگ نہ کیا کرو لیکن میں نہیں سنتی تھی۔ جب بھی رات میں آپ مجھ سے پانی مانگتے تھے۔ میں آپ کو پانی بھی پلاتی تھی۔ جب آپ تھکے ہوئے آتے تھے میں آپ کو چائے بھی دیتی تھی۔ پھر آپ کیوں چلے گئے بابا؟ مجھے یونیورسٹی جانا تھا لیکن آپ کے پاس ایڈمیشن کے پیسے نہیں تھے تو آپ نے اپنی kidney بیچ دی۔ مجھے بتایا بھی نہیں تاکہ میں پریشان نہ ہوجاؤں۔ مجھے laptop چاہیئے تھا۔ آپ کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن میں بضد تھی۔ آپ روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑ رہے تھے میرے لئے اور دن جب آپ کام سے واپس آرہے تھے وہ پیسے چوری ہوگئے۔ آپ نے تب بھی مجھے نہیں بتایا کہ کہیں میری امید نہیں ٹوٹ جائے۔ مجھے یاد ہے بابا جب میں نے فیروز سے شادی کرنے کی ضد کی تھی۔ آپ میری خوشی کے لئے فیروز سے ملے تھے لیکن آپ نے رشتے سے منع کردیا تھا۔ میں اس دن آپ سے بہت لڑی تھی۔ میں آپ کو بہت برا بھلا کہا تھا۔ مجھے یاد ہے اس دن آپ جب گھر سے نکلے تھے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس دن آپ واپس نہیں آئے تھے اور جب آپ واپس آئے تو آپ کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوچکی تھیں۔ مجھے وہ منظر نہیں بھولتا بابا جب آپ میرے سامنے سفید چادر میں لیتے ہوئے تھے۔ میرے بابا۔۔۔ میرے پیارے بابا آپ واپس آجائیں۔۔۔ صرف ایک دن کے لئے ہی سہی ۔۔۔ لیکن آپ واپس آجائیں ۔۔۔ مجھے آپ سے معافی مانگنی ہے۔۔۔ میں آپ کی ساری بات مانوگی ۔۔۔ میں فیروز سے شادی بھی نہیں کرون گی۔۔۔ میں laptop بھی نہیں مانگو گی۔۔۔ مجھے آپ کو بتانا ہے کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں ۔۔۔ صرف ایک بار۔۔۔ ایک بار آجائیں ۔۔۔ میرے بابا۔۔۔ میرے ۔۔۔ پیارے۔۔۔ بابا۔۔۔۔
اس سے زیادہ وہ نہیں لکھ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ جس طرح بابا کے جانے بعد ساری خواہشات ادھوری رہ جاتی ہیں اس طرح خط بھی ادھورا رہ گیا۔
باپ کے بغیر بھی
کوئی مسکراتا ہے کیا؟
کوئی یتیم سے پوچھے
باپ نعمت ہے کیا۔۔۔ ؟
***********************

Comments